ویڈیو سکینڈل و ہراسیت کیس: متاثرین کا ملزم عثمان مرزا کو پہچاننے سے انکار
اسلام آباد میں ہراسیت اور ویڈیو بنانے کے مشہور مقدمے میں متاثرہ لڑکی اور لڑکے نے ملزم عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کو عدالت میں پہچاننے سے انکار کر دیا ہے۔
اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں پراپرٹی ڈیلر عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کی لڑکے اور لڑکی کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں متاثرہ لڑکی اور لڑکے نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا ہے، میں نے کسی بھی سٹامپ پیپر پر دستخط نہیں کیے۔ ‘
متاثرہ لڑکی نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ’ میں نے کسی بھی ملزم کو نہ شناخت کیا اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے ، پولیس والے مختلف اوقات میں سادہ کاغذوں پر میرے سے دستخط اور انگوٹھے لگواتے رہے۔ ‘
متاثرہ لڑکی نے عدالت میں کہا کہ ’میں کسی ملزمان کو نہیں جانتی نہ ہی کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہوں۔ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونا چاہتی جس پر جج نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپ کو پیش تو ہونا پڑے گا۔‘
متاثرہ لڑکی نے موبائل فوٹیج بنانے کے الزام میں گرفتار ملزم ریحان کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیا۔
لڑکی نے بیان دیا کہ ’میں نے کسی کو بھی تاوان کی رقم ادا نہیں کی، ریحان سمیت کسی بھی ملزم نے زیادتی کی کوشش نہیں کی، میں ریحان کو نہیں جانتی۔ پولیس نے تھانے میں ریحان سمیت دیگر ملزمان کو مجھے دکھایا تھا۔ ‘
متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بیان حلفی جمع کراتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بیان کسی کے دباو میں نہیں دے رہی ہوں۔‘
کیس میں وکلا کی جرح کے لیے سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
کیس میں وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو مقدمے کی خود نگرانی کی ہدایت کی تھی۔
دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر ملزمان نے متاثرہ لڑکی اور لڑکے کو بلیک میل کر کے 13 لاکھ روپے بھی لیے تھے۔

