پولیس پر حملے، کالعدم تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے اضلاع باجوڑ اور شمالی وزیرستان میں پولیس پر حملوں میں تین سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پولیس پر حملوں کو دہشت گردی کی نئی لہر کے آغاز کا اشارہ قرار دیا ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے دو مختلف مقامات پر پولیس کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ـ
ایک واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے مین بازار میں پیش آیا جس میں ڈی پی او شمالی وزیرستان کے قافلے پر حملہ کیا گیا ـ
حملے میں ڈی پی او بچ نکلے تاہم تین پولیس اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ـ
دوسرا واقعہ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سلارزئی میں پیش آیا جہاں رات گئے پولیس چوکیوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ـ
حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور ان کی چوکیاں نذر آتش کردی گئیں ـ
ترجمان ٹی ٹی پی کے مطابق ان کا ایک ساتھی بھی اس جھڑپ میں مارا گیا ہے ـ
خیال رہے کہ گزشتہ رات اسلام آباد میں بھی پولیس پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

