بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی گولیوں سےچھلنی اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے.
وائس فار بلوچ مِسنگ پرسن (وی بی ایم پی) نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ یاسین بگٹی کی مسخ شدہ لاش چمن بائی پاس سے ملی ہے.
وی بی ایم پی کو یاسین بگٹی کے اہلخانہ نے 19 جنوری 2016 کو انکی ملکی اداروں کے ہاتھوں ناشناس کالونی بشیر چوک کوئٹہ سے لاپتہ کرنے کی شکایت ملی تھی.
تنظیم کی جانب سے یاسین بگٹی کے کیس کو 2019 میں وفاقی و صوبائی حکومت کو فراہم کیا گیا تھا.
سوشل میڈیا صارفین نے اس افسوسناک خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایک اور بلوچ کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ پاکستان کے قانون میں بلوچ کا اغوا اور قتل کوئی جرم نہیں.
ایک صارف نے لکھا کہ ان کمینے اغوا کاروں کے نزدیک بلوچی،سندھی،پنجابی اور پختون کے اغوا میں کوئی فرق نہیں ہے.
ایک صارف نے لکھا کہ یہ بہت بڑی ذیادتی ہے،اگر کسی کا کوئی جرم ہے تو اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے اور پھر قانون اسے سزا دے.

