جسٹس شوکت صدیقی برطرفی کیس،ن لیگ کا بیانیہ سپریم کورٹ کے کٹہرے میں؟
سپریم کورٹ سے مطیع اللہ جان
پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا شریف خاندان کو ملنے والی سزاؤں کو جعلی احتساب قرار دینے والا بیانیہ سپریم کورٹ میں داؤ پر لگ گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کو دی سزاؤں میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے ٹھوس اور واضح گواہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے آئی تھی۔
راولپنڈی میں راولپنڈی بار کے نمائندوں سے خطاب میں جسٹس صدیقی نے بطور جج یہ انکشاف کیا تھا کہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے ایک نجی ملاقات میں شریف خاندان کو الیکشن سے پہلے ضمانت پر رہا نہ کرنے کا کہا۔اس خطاب کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس صدیقی کو یہ کہہ کر عہدے سے برطرف کر دیا تھا کہ انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں کو خاص طور پر عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کی خلاف جسٹس صدیقی نے ایک آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں حکومت کے اٹارنی جنرل کا بیان اہم ہوتا ہے۔
اب جبکہ ن لیگ کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ اشتراوصاف کو تعینات کردیا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ ایڈووکیٹ اشتراوصاف منگل کو اپنے دلائل میں بطور معاون عدالت جسٹس صدیقی کی بحالی کے حق میں دلائل دیں گے یا ان کی برطرفی سے متعلق جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے حق میں۔
تکنیکی اعتبار سے جسٹس صدیقی اپنی برطرفی کے 2021 میں باسٹھ سال کی عمر کی حد پار کر کے ریٹائر بھی ہو چکے ہیں تاہم سپریم کورٹ نے اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو ان کی مراعات اور پنشن بحالی کے علاوہ ان کے آئی ایس آئی پر عائد کردہ الزامات کو تقویت ملے گی۔
ہائیکورٹ میں اپنی اپیلوں کی سماعت کے دوران لیگ کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے بھی سپریم کورٹ میں تحریری طور پر جمع کرائے گئے مذکورہ انکشافات و الزامات کو پیش کر رکھا ہے
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومت کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو اپنا موقف واضح کرنے کا وقت دیا ہے۔ ایسے میں اگر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف جسٹس صدیقی کے حق میں دلائل دیتے ہیں تو ن لیگ کے اس بیانیے کو تقویت ملے گی جس میں شریف خاندان کو دی گئی سزاؤں کو جعلی احتساب کا نام دیا گیا تھا اور اگر اٹارنی جنرل جسٹس صدیقی کی اب بعد از ریٹائرمنٹ بحالی کی مخالفت کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ ن لیگ کا بیانیہُ کمزور ہو گا بلکہ جسٹس صدیقی کے انکشافات کا سہارا لینے والی مریم نواز کی اپنی سزاؤں کے خلاف ہائیکورٹ میں دائر اپیلیں بھی کمزور پڑ جائیں گی۔اگر ایسا ہوا تو مریم نواز کی سزائیں اور نا اہلی کو ہائیکورٹ برقرار بھی رکھ سکتی ہے۔ مریم نواز نے خود کو ملنے والی سزا میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کو اجاگر کرنے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں معزول جج جسٹس صدیقی کا وہ تحریری بیان بھی جمع کرا رکھا ہے جس میں انہوں نے آئی ایس آئی افسران سے ملاقات کے بارے میں سپریم کورٹ کے سامنے انکشافات کئے۔ �������
واضح رہے کہ مریم نواز کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے ٹرائل ججوں کی نگرانی پر سپریم کورٹ نے اپنے جس جج جسٹس اعجاز الاحسن کو نگران جج تعینات کیا تھا وہ جسٹس صدیقی کا کیس سننے والے پانچ رکنی بینچ کا بھی حصہ ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم اس پانچ رکنی بینچ میں دیگر تین جج جسٹس طارق مسعود ،جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق جج کے وکیل ایڈووکیٹ حامد خان کو منگل کے دن دلائل سمیٹنے کے لئے ایک گھنٹے کا وقت دیا ہے جس کے فوری بعد نئی حکومت کے نئے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بطور عدالتی معاون اس کیس میں اپنی قانونی پوزیشن واضح کریں گے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اکتوبر 2018 میں جوڈیشل نے عہدے سے برطرف کیا تھا جس کے بعد سے ان کی برطرفی کی خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں آج تک زیر سماعت ہے۔

