پاکستان

سینیٹ میں سابق جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی کے معاملے کی گونج

جون 15, 2022

سینیٹ میں سابق جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی کے معاملے کی گونج

پاکستان کے ایوان بالا(سینیٹ) میں بھی سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کی وطن واپسی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی واپسی کا مخالف نہیں ہوں، یہ پاکستان کسی کی چراگاہ نہیں ہے، آئین اور اداروں کو پامال کرنے والوں کو پاکستان آنےکی اجازت ہونی چاہیے لیکن قانون اپنا راستہ اختیار کرے ،جو 8 ہفتےکے لیے باہر گئے ہیں انہیں بھی واپس آنا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ہم نہیں کریں گے، یہ فیصلے کہیں اور ہوں گے، جب وہ باہر گئے تھے تو کیا آپ روک سکے تھے ؟ جب وہ آئیں گے تو کیا آپ روک سکیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ جب پرویز مشرف یہاں تھے تو میں نےکہہ دیا تھا کہ میں نے مشرف کو معاف کردیا، پرویزمشرف آنا چاہتےہیں تو یہ ان کا پاکستان اور ان کا گھر ہے، پرویزمشرف کے ملک واپس آنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن سب کے ساتھ سلوک ایک جیسا ہونا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمدکا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کو لانے کی باتیں ہو رہی ہیں، میاں نوازشریف کا بھی بیان آیا ہے، ملک اور آئین کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے،ہم مجبور ہیں، ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں،عملاً غلام ہیں۔

ان کہنا تھا کہ پرویزمشرف 10 سال سے سیاہ سفیدکے مالک رہے، 2 بار آئین توڑا، عدلیہ پرشب خون مارا، سابقہ چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا فیصلہ موجود ہے، پرویزمشرف کو لایا جاتا ہے تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دیں، عدالتیں بندکردیں، ان کی پھرکوئی ضرورت نہیں۔

جے یو آئی کے سینیٹر غفور حیدری کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف بیمار ہیں، وہ زندگی موت کی کشمکش میں ہیں، اس صورت حال میں ہم کہیں وہ پاکستان نہ آئیں اور رکاوٹ بنیں تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے