پاکستان

عدالت میں وکیل عرفان قادر کی مریم نواز کی تسبیح پر ٹویٹ کی نشاندہی

جون 16, 2022

عدالت میں وکیل عرفان قادر کی مریم نواز کی تسبیح پر ٹویٹ کی نشاندہی

مطیع اللہ جان . اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی نیب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران اُن کے وکیل عرفان قادر نے کمرہ عدالت سے کی جانے والی ٹویٹس کی طرف ججز کی توجہ دلائی۔

جمعرات کو ایڈووکیٹ عرفان قادر نے اچانک کھڑے ہو کر عدالت کو بتایا کہ کوئی کمرہ عدالت سے یہ ٹویٹ کر رہا ہے کہ مریم نواز عدالت میں بیٹھی ججوں پر تسبیح پڑھ پڑھ کر پھونک رہی ہیں۔

پاس کھڑے یوٹیوبر صدیق جان نے ایم جے ٹی وی کے سامنے تسلیم کیا کہ انہوں نے یہ حرکت کی ہے، تاہم عدالت نے کاروائی جاری رکھی۔

صدیق جان کو مشورہ دیا گیا کہ عدالتی رپورٹنگ کریں، دلائل اور قانونی نکات کے بارے میں رپورٹ کریں نہ کہ غیر سنجیدہ باتیں جو عدالت سے باہر بھی کی جا سکتیں ہیں۔

مریم نواز کے ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلائل جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ نیب نے تمام ملزمان کے خلاف مشرکہ فردِ جرم نہیں لگائی مگر سزا سب کو ایک ساتھ سنا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ لندن جائیدادوں کی ملکیت نواز شریف کی بتا کر اس کا بینامی دار حسین نواز کو قرار دیا اور آگے چل کر پورے خاندان پر اکٹھا الزام لگا دیا، نیب کا اپنا کیس ہے کہ نواز شریف نے ان جائیدادوں کو حسین نواز کی ملکیت ظاہر کیا، شریک ملزمان کو بینامی دار ظاہر کیا پھر اعانت کار ظاہر کر کے ملکیت نواز شریف کی ظاہر کر دی۔

وکیل نے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہم نے نئی فردِ جرم کی استدعا کی مگر ہماری بات نہیں مانی گئی، اور احتساب عدالت نے پرانی فرد جرم پر ہی سزا سنا دی، ضمنی ریفرنس میں مریم نواز کو دوبارہ ٹرسٹیز قرار دیا گیا مالک نہیں۔

وکیل کے مطابق سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بناتے وقت سوالنامہ تیار کیا اور ملزمان کو جے آئی ٹی کے سامنے جوابات دینے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کے جے آئی ٹی والے حکم میں مریم نواز کا نام ملزمان کی فہرست میں تھا ہی نہیں۔ جے آئی ٹی نے مجھے ٹرسٹ ڈیڈ لانے کا کہا، ہم ٹرسٹ ڈیڈ کے وجود کو مانتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی قانونی حیثیت اور مدت کیا ہے، جس دن بیرئیر شئیرز بک جاتے ہیں ٹرسٹ ڈیڈ ختم ہو جاتی ہے، یہ ٹرسٹ ڈیڈ چند ماہ بعد اپنی مدت ختم کر کے ختم ہو گئی، مریم نواز نے کبھی شئیرز رکھے ہی نہیں تھے، انگلینڈ یا ویلز میں ایسی ٹرسٹ ڈیڈ کو رجسٹر کرنے کا کوئی قانون ہی نہیں، ڈیڈ پر دستخط مریم نواز، کیپٹن صفدر، حسین نواز شریف اور مقامی وکیل کے ہیں، اس وکیل نے اس ٹرسٹ ڈیڈ کے وجود کی تصدیق کی اور تاریخوں کو بھی درست قرار دیا، اس وکیل جیریمی فریمین باکس کو نیب نے سوال جواب ہی نہیں کیے اور اس کو بطور گواہ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کو درست یا غلط ثابت کرنا نیب کی ذمے داری تھی۔

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلیل دی کہ مریم پر الزام اعانت کاری کا ہے جائدادیں چھپانے کا، جبکہ جائدادیں چار ہیں اور ان کی خریداری مختلف تاریخوں میں کی گئی تو ۲۰۰۶ کی ٹرسٹ ڈیڈ کیسے ان جائدادوں کو چھپانے کے لیے قرار دی جا سکتی، جو دستاویز جس کی عمر محض چار یا پانچ ماہ کی ہے تو وہ درست ہوتے ہوئے بھی ۱۹۹۶ میں جائداد کی خریداری کے الزام میں شامل کیا جا سکتا ہے؟

وکیل نے بتایا کہ مریم نواز بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور ان کو ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے حسین نواز کی ایک سے زیادہ شادیوں کے باعث بچوں کی دیکھ بال کی ذمے داری دی گئی تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کا مرکزی ملزم نواز شریف کو کیا فائدہ ہو سکتا تھا؟

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ یہی ہمارا کیس ہے۔ میاں نواز شریف کا پہلے دن سے یہ موقف ہے کہ میرے بچے میرے پر نہیں اپنے دادا پر مالی طور پر انحصار کرتے تھے۔ نیب نے اس حقیقت کو جھٹلانے کے لیے کوئی ثبوت بھی ہیش نہیں کیے، یہی صورت حال میاں شہباز شریف کی بھی رہی-

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ استغاثہ کو ہر صورت اپنا کیس بلا کسی شک و شبہ ثابت کرنا ہوتا ہے، ایڈوکیٹ امجد پرویز نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں کہا گیا تھا کہ ملزم کا جرم اسکے بیانات کو بنیاد بنا کر ثابت نہیں کیا جا سکتا، نیب نے جائداد کی ملکیت چھپانے کے الزام کو ایسا کام کرنے میں اعانت سے کنفیوز کر دیا ہے، ابتدائی الزام مریم نواز پر جعلی دستاویز کا تھا جس پر میں نے دلیل دی کہ اسکا فیصلہ اصل کیس کے فیصلے کے بعد ہو گا اور پھر عدالت نے وہ الزام ملتوی کر دیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ جب جعلی دستاویز کا الزام ہی ملتوی کر دیا گیا تو اعانت کا جرم کیسے ثابت ہوا؟

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ ایک ٹرسٹ ڈیڈ کے الفاظ کے فونٹ متعلق ایک نام نہاد ماہر کی رائے بصورت ایک حلفیہ بیان آئی تو جرح پر اس نے اقرار کیا کہ اسکی رائے کسی مستند ذریعے پر مبنی نہیں تھی، نیب نے ٹرسٹ ڈیڈ کے متعلق ٹھوس تفتیش کیوں نہیں کی، رابرٹ ریڈلے ایک کمپیوٹر دستاویزات کا فرانزک ایکسپرٹ تھا، اس ماہر نے مانا کہ ۲۰۰۵ میں اس نے خود بھی استعمال کیا تھا، نیب نے اس ماہر کے بیان کے علاوہ ٹرسٹ ڈیڈ کے الفاظ اور فونٹ بارے کوئی تحقیق نہیں کی، اس ٹرسٹ ڈیڈ سے مریم نواز نے کوئی فائدہ نہیں لیا اور نہ ہی کسی کو مالی نقصان پہنچا۔

جسٹس عامر نے پوچھا کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی تو تب بھی اس کا الزامات کو ثابت نہیں کرتا، کیا آپ نے تفتیشی سے پوچھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کا کسی دفتر میں ناجائز استعمال کیا گیا ہو۔

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ تفتیشی سے یہ ضرور پوچھا تھا کہ مریم نواز نے ٹرسٹ ڈیڈ سے کوئی مالک فائدہ اٹھایا تو جواب نفی میں ملا، اس ٹرسٹ ڈیڈ کی مدت ۴/۲/۲۰۰۶ تک تھی، اور اس سے جڑے شئیر سرٹیفیکیٹ بھی اسی عرصے میں ٹرانسفر ہو گئے تھے، نیب نے شئیر ہولڈنگ کمپنیز کو شامل تفتیش نہیں کی۔

جسٹس محسن نے کہا کہ ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیوں کہ الزام محض ٹرسٹ ڈیڈ کے اصلی نہ ہونے کا تھا، مریم نواز عوامی عہدہ نہیں رکھتی تھیں اس لئیے مرکزی ملزم کے کیس سے ان کا کیس الگ کر کے مقدمہ چلا کر سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔

اہم گواہ وقار حمد اور جیریمی فریمین باکس کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا کیوں کہ یہ دونوں نیب کا کیس تباہ کر دیتے، واجد ضیا نے بطور سربراہ جے آئی ٹی اپنے کزن کو کندن بھیجا کہ جیریمی فریمین سے جا کر پوچھیں کہ یہ خط آپکا لکھا ہوا ہے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیریمی فریمیں کا تفتیش میں شامل نہ ہونا ملزم کے حق میں جاتا ہے، جیریمی فریمین نے استغاثہ کی طرف سے پیش کئیے جانے پر بیان میں تمام جوابات پڑھ کر دئیے، چھ سال سے اس ٹرسٹ ڈیڈ اور اس کے فونٹ کو بنیاد بنا کر میری کردار کشی کی گئی، جیریمی فریمیں نے لندن میں واجد ضیا کے کزن کے کہنے پر یہ لکھ کر دیا کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے، مگر جیریمی نے مانا کہ کیلیبری فونٹ ۲۰۰۵ میں بھی دستیاب تھا، پھر آگے جا کر وہ خود کہتا ہے کہ وہ کمپیوٹر ایکسپرٹ نہیں۔ اس نے تسلیم کیا کہ اس نے اپنی رائے جن شواہد اور تحقیقی ذرائع کی بنیاد پر دی وہ بیان کا حصہ نہیں بنائے گئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایسے ماہرین تو پاکستان میں بھی دستیاب ہوتے ہیں،ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ کیلبری فونٹ بنانے والا ماہر یا اس کمپنی کا کوئی ماہر بھی بطور گواہ طلب نہیں کیا گیا۔ جرح کے دوران اس ماہر نے مانا کہ اپنی ماہرانہ رائے دینے سے ہہلے نیب کے چار افسران سے تفصیلی ملاقاتیں کی جو بقول اان کے ایک معمول کی بات ہے۔

ایڈوکیٹ امجد نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے نوٹس بھی احتساب عدالت میں ہیش کئیے گئے جو اس بات کہ تصدیق کرتے ہیں کیلیبری فونٹ ۲۰۰۵ میں بھی دستیاب تھے۔

سماعت 23 جون تک ملتوی کر دی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے