معاشی بدحالی کے شکار پاکستان میں بیکار محکمے کو 50 کروڑ کی تنخواہیں
پاکستان کی حکومت نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور کئی وزرا عوام سے اخراجات میں کمی کی اپیلیں کرتے ہیں مگر ایک ایسے محکمے کو سالانہ 50 کروڑ تنخواہوں کی مد میں جاری کیے ہیں جو 10 برس سے بیکار پڑا ہے۔
سنہ 2005 میں زلزلے کی تباہی کے بعد تعمیر نو کے کاموں کے لیے بنائے گئے محکمے (ایرا) ارتھ کوئک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیب اتھارٹی کے لیے رواں سال بجٹ میں 500 ملین رکھے گئے ہیں جو صرف تنخواہوں کی مد میں ہے۔
اس اتھارٹی کے سربراہ فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ہیں جبکہ دیگر کئی حاضر سروس فوجی افسران بھی یہاں سے تنخواہیں لیتے ہیں۔
اس اتھارٹی کو سنہ 2014 میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ اتھارٹی زلزلے کے 17 برس بعد بھی سب سے زیادہ متاثرہ بالاکوٹ کے شہریوں کے لیے نیو سٹی بکریال کا منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام ہے۔
سوشل میڈیا صارفین عوام کو چائے کا ایک کپ پینے کا مشورہ دینے والے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی توجہ اس محکمے کی تنخواہوں کے بجٹ کی جانب دلا رہے ہیں.

