پاکستان

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ: الیکشن کمیشن میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

جون 21, 2022

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ: الیکشن کمیشن میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

آٹھ برس سے جاری تحریک انصاف کی غیرملکی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت الیکشن کمشن نے مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

منگل کو سماعت کے اختتام پر درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن دلچسپی نہ لیتا تو سکروٹنی مزید چار سال جاری رہتی۔ شکرگزار ہوں کہ الیکشن کمیشن نے تمام ریکارڈ دیکھنے کا موقع دیا۔

اکبر بابر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جواب دہ بنانے کیلئے بہترین موقع ہے۔ ایسی جماعتوں اور لیڈرز کو رول ماڈل ہونا چاہیے۔

اکبر بابر کا کہنا تھا کہ کیس کے پیچھے ان کا کوئی ذاتی عناد نہیں تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دل سے دونوں فریقین کا مشکور ہوں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ قومی مفاد کا معاملہ ہے بہت جلد دیگر جماعتوں کے کیس بھی فائنل ہوں گے۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ یقینی بنائیں گے کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ ملک کے لیے جمہوریت سب سے ضروری سے جسے مضبوط بنانا ہے

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹرز کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ یقینی بنائیں گے کہ سب کے ساتھ انصاف ہو۔

قبل ازیں درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے مالی ماہر ارسلان وردگ نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہتحریک انصاف نے اپنے ظاہر نہ کردہ 11 اکائونٹس سامنے آنے پر تسلیم کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چار ملازمین کے اکائونٹس میں فنڈنگ آنے کو بھی تسلیم کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ یہ سب تو پرانی باتیں ہیں انہیں دوبارہ کرنے سے کیا ہوگا؟
مالی امور کے ماہر نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کئی بیرون ملک سے آئے فنڈز کے ذرائع نہیں بتائے، امریکہ سے 4 لاکھ 37 ہزار ڈالرز، برطانیہ سے 19 ہزار پائونڈز کا ریکارڈ موجود نہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ڈونرز کی تفصیل نہ ہونے پر انور منصور اپنے دلائل بھی دے چکے ہیں،
انور منصور کے مطابق فنڈنگ کے وقت قانون میں ڈونر کی تفصیل دینا لازمی نہیں تھا۔

ارسلان وردگ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کے دفتر میں لاکھوں روپے کا فنڈ جمع ہوا لیکن ڈونرز کا علم نہیں، دعوے کے مطابق مقامی سطح پر کھولے گئے اکائونٹس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔

ارسلان وردگ کے مطابق مجموعی طور پر 41 بنکوں نے الیکشن کمیشن کو اکائونٹس سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا، امریکہ میں پی ٹی آئی ایل ایل سی تحریک انصاف کی ایجنٹ نہیں ذیلی کمپنی ہے۔

ارسلان وردگ نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جب چاہیں ان کمپنیوں کو تحلیل کر سکتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے