پاکستان

جبری گمشدگیاں ملکی ساکھ کے لیےتباہ کن: ایڈووکیٹ انعام الرحیم

جون 21, 2022

جبری گمشدگیاں ملکی ساکھ کے لیےتباہ کن: ایڈووکیٹ انعام الرحیم

پاکستان میں لاپتہ افراد کے وکیل کرنل(ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جبری گمشدگی کا معاملہ ملکی چہرے کی خوشنمائی میں اضافہ نہیں کر رہا۔جبری گمشدگی میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف آرٹیکل سکس کا اطلاق ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرض کہن کا علاج یہ ہے کہ ابتدائی طور پر جن 450 افراد کے پروڈکشن آرڈر کمیشن آف انکوائری نے جاری کئے،انہیں فوری بازیاب کرایا جائے کیونکہ پروڈکشن آڈر سے قبل جے آئی ٹی رپورٹ دیتی ہے کہ یہ افراد ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔حکومت یہاں سے ابتدا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سربراہ نے جبری گمشدگی میں ملوث کچھ افسران کا تذکرہ کیا تھا ان کے نام سامنے لائے جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

کرنل (ر)انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ بھی قرار دے چکے ہیں کہ جبری گمشدگی پر آرٹیکل سکس لگایا جائے کیونکہ یہ آئین سے سنگین غداری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت یہ پوچھتی ہے کہ لوگوں کو کون اٹھاتا ہے؟اس سلسلے میں محبت شاہ کے بھائی یاسین شاہ کے کیس کے حوالے سے درخواست دائر کی ہے۔سپریم کورٹ اس کیس میں قرار دے چکی ہے کہ ثابت ہوا کہ جبری گمشدگی میں فوج ملوث ہے۔یہ فیصلہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ المیہ ہے کہ مذکورہ فیصلے کے بعد پانچ چیف جسٹس ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اندازہ لگائیں کے ملک کے اندر کس کی حکومت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق آمر پرویز مشرف کی وطن واپسی کی اطلاعات تھیں لیکن پھر بتایا گیا کہ وہ نہیں آ رہا،اسکی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا مدثر مارو کے کیس میں وہ فیصلہ تھا جس میں اسے نوٹس جاری کرنے اور لاپتہ افراد متعلق حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایسے دس مقدمات بھی ہیں جن میں لوگ لاپتہ ہوئے اور بعدازاں پتہ چلا کہ ان کا ٹرائل چلا کر کچھ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ان افراد کے اہل خانہ کو بھی بعد میں جیل سے معلوم ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں احسن طریقے سے سماعت ہو رہی ہے لیکن لاہور ہائیکورٹ کچھ نہیں کر رہی اور مذکورہ کیس میں اس کی کارکردگی مایوس کن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ اب بین الاقوامی فورم پر آ چکا ہے۔کینیڈا کی پارلیمنٹ نے بھی کہا ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیٹٹف نے بھی ہمیں ابھی گرے لسٹ سے نہیں نکالا،ان کا وفد آئے گا اور تمام معاملات کا جائزہ لے گا۔جبری گمشدگیوں سے ہمارا بیرون ملک امیج تباہ ہو رہا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے