بلوچستان میں ریاستی ادارے بے لگام،لاپتہ افراد کے ورثاء سراپا احتجاج
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف ورثا اور شہری سراپا احتجاج ہیں۔
بلوچ لاپتہ افراد کی آواز(وی بی ایم پی) کے زیراہتمام لاپتہ راشد حسین سمیت دیگر شہریوں کی بازیابی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے میں لاپتہ افراد کے ورثا خواتین،بچےاورمعمر افراد بھی شریک ہوئے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو جلد بازیاب کیا جائے اور اس مسئلے کو حل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد میں سے اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔شہریوں کو سالہا سال تک غائب رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ ملک بھر کی طرح بلوچ نوجوان اور طلبا بھی لاپتہ ہورہے ہیں۔ارڈایگریکلچر یونیورسٹی کے طلبا بھی اپنے ساتھی فیروز بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
بلوچستان کی صورت حال آتشیں ہے اور لاپتہ افراد کا مسئلہ دیگر تمام محرومیوں پر حاوی ہے جس کے حل کے بغیر کوئی مثبت پیش رفت خارج از امکان ہے لیکن ہمارے حکمران گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔

