پاکستان

ان پر خوف طاری تھا کہ جنرل فیض کو آرمی چیف لگا رہا ہوں:عمران خان

جون 22, 2022

ان پر خوف طاری تھا کہ جنرل فیض کو آرمی چیف لگا رہا ہوں:عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام سے ملاقات میں ان کو بتایا گیا کہ طالبان سے جنگ کے لیے پیسے دیتے ہیں امن معاہدے کے لیےنہیں،پھر ڈرون حملہ کر دیا اور معاہدہ توڑ دیا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیرستان میں امریکہ کے دباؤ پر فوج بھیجی گئی۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم امریکہ کی غلامی کرتے رہیں۔

سابق وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ ہمارے 80 ہزار لوگ امریکی جنگ میں جانوں سے گئے امریکہ نے ہمیں کیا امداد دی؟

ان کا کہنا تھا کہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ہوا۔ اس نے ہمارے شہریوں کو قتل کیا اور ہم نے سارے پاکستانیوں کے سامنے اسے واپس بھجوا دیا۔ رمزی یوسف اور ایمل کانسی کو امریکی خواہش پر اسکے حوالے کر دیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم امریکہ سے کہتے ہیں کہ اس کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ امن میں ساتھ ہوں گے تو یہ کہنے سے کیسے اینٹی امریکہ ہو گئے۔میں اینٹی امریکہ نہیں ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنے کا مطلب ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ختم ہو گیا۔ہم نے بھارت سے تعلقات میں بہتری کی کوشش بھی کی لیکن اصولوں سے منحرف نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ کیا کوئی ملک نظریہ ختم کر کے ترقی کر سکتا ہے؟آج تک سوائے بھٹو کے چند سالہ دور اقتدار کے باقی سب امریکہ کی غلامی کرتے رہے۔

عمران خان نےکہا کہ ’نواز شریف ہمیشہ میرٹ کی خلاف ورزی کر کے اپنی مرضی کا آرمی چیف لاتا رہا ہے۔ ان پر خوف طاری ہو گیا تھا کہ میں جنرل فیض کو لانا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ حکومت جیسے ملک چلا رہی ہے ایسے ہی چلانا ہے؟ میرا سوال نیوٹرل سے ہے کہ اگر گھر میں ڈاکہ پڑے تو کیا چوکیدار نیوٹرل رہ سکتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے