لاپتہ افراد کا کمیشن ناکام،عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی:اسلام آباد ہائیکورٹ
پاکستان کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ جبری گمشدگی سنگین جرم اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔لاپتہ افراد کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو سگے بھایئوں 8 سال سے لاپتہ زاہد امین اور ایک برس سے لاپتہ صادق امین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔ کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وضاحت کرے کیوں مؤثر اور قابل ذکر ایکشن نظر نہیں آرہا؟۔
کمیشن رپورٹ جمع کرائے کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے پر ذمے داروں کے خلاف کاروائی کے لیے کیوں نہیں لکھا؟ ۔
عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے معلوم ہے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد کمیشن کی کاروائی بادی النظر میں رسمی ہے۔ ایک دہائی قبل تشکیل دیے گئے کمیشن نے جبری گمشدگی خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو تجاویز کیوں نہیں دیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت بار بار کہہ چکی ہے جبری گمشدگی سنگین جرم اور آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی ۔ پٹیشنرز شہری ہیں، کمیشن کی ڈیوٹی ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ تک خود پہنچے ۔
رجسٹرار لاپتہ افراد بازیابی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں لاپتا افراد کمیشن نے زاہد امین کو جبری گمشدگی ڈیکلیئر کیا۔
عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جب کہہ دیا کہ یہ جبری گمشدگی ہے تو آپ نے پروڈکشن آرڈر کس کو ایشو کیے؟ عدالت نے رجسٹرار سے استفسار کیا کہ کیا کمیشن صرف رسمی کارروائی کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرتا ہے؟
عدالت نے کہا کہ کمیشن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ٹھیک طریقے سے پیش نہیں آرہا۔ آپ ان کے گھروں کو جائیں۔ چیف جسٹس نے رجسٹرار سے استفسار کیا کہ پروڈکشن آرڈر کب جاری ہوئے ؟ تاریخ کیا ہے، جس پر درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے بتایا کہ زاہد امین کا 14 ستمبر 2020 کو پروڈکشن آرڈر جاری ہوا ۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ پروڈکشن آرڈر جاری کرے بھول گئے؟ جن کو جاری کیا ،کیا انہوں نے انکار کردیا ؟
رجسٹرار لاپتہ افراد بازیابی کمیشن نے جواب دیا کہ کسی نے انکار نہیں کیا ۔
عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کاروائی کا لکھا ؟ آپ نے 14 ستمبر 2020 کو پروڈکشن آرڈر جاری کیا۔ بادی النظر میں آپ کو کچھ نظر آیا ہو گا ۔ اپنے آپ کو شرمندہ نہ کریں کیا۔
عدالت نے لاپتا زاہد امین کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے لاپتا افراد کمیشن کو لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مکمل سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا۔
دونوں لاپتہ سگے بھائیوں کے کیس کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی

