پاکستان

بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد، پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں مندی

جون 24, 2022

بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد، پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں مندی

پاکستان کےوزیرِاعظم شہباز شریف نے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہےجس کے بعد سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں معاشی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ’ بڑی صنعتوں پر ٹیکس لگانے کا مقصد غربت کو کم کرنا ہے۔‘

وزیرِاعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں معاشی ٹیم کا اجلاس منعقد ہوا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجٹ سے متعلق ہم نے اہم فیصلے کیے جن کا بنیادی مقصد عوام کو مشکل سے نکالنا ہے، معیشت دیوالیہ ہونےجارہی تھی جس سےملک اب نکل آئےگا، بجٹ میں کیے گئے اعلانات کے مطابق آئی ایم ایف شرائط منظور ہوچکیں، یقین ہے مشکل وقت سے نکل آئیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے جان لڑادوں گا لیکن سبز باغ نہیں دکھاؤں گا، صاحب ثروت افراد غریبوں کی مدد کریں، غریب نے قربانی دی اب ایثار کرنے کی صاحب حیثیت کی باری ہے، ہم دن رات محنت کریں گے اور ہچکولے لیتی کشتی کو پار لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگارہے ہیں،ان صنعتوں میں سیمنٹ، چینی، تیل و گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینل، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹوموبائل، سگریٹ، اسٹیل، کیمیکل، بیوریجز شامل ہیں۔

وزیرعظم نے ایک اور ٹیکس لگانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ جو افراد سالانہ 15 کروڑ سے زائد کماتے ہیں ان کی آمدن پر 1 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

ادھرپاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جمعے کو سٹاک ایکسچینج میں کاروبار دو ہزار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 40 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ٹیکس میں اضافہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھا جارہا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے