عالمی خبریں

اسقاط حمل کا آئینی حق ختم، امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی و غصہ

جون 24, 2022

اسقاط حمل کا آئینی حق ختم، امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی و غصہ

امریکہ میں سپریم کورٹ کے خواتین کے اسقاط حمل (ابارشن) کے آئینی حق کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد اس کے حق اور مخالفت میں مظاہرے ہوئے ہیں.

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعے کو امریکی سپریم کورٹ نے ایک ڈرامائی حکم نامے میں سنہ 1973 میں خواتین کو اسقاط حمل کرانے کی اجازت دیے جانے کے ’روو وی ویڈ فیصلے‘ کو ختم کر دیا ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کریں گے.

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ری پبلکنز اور رجعت پسند مذہبی طبقے کی جیت قرار دیا جا رہا ہے جو اسقاط حمل پر پابندی کے حق میں تھے۔

امریکہ کے سابق نائب صدر مائیک پنس نے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے تاریخ کی غلطی کو درست کرنے کا اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اسقاط حمل کے سوال کو ریاستوں اور عوام کو واپس کرتے ہوئے موجودہ سپریم کورٹ نے ایک تاریخی غلطی کو درست کر دیا ہے اور امریکی شہریوں کے خود حکومت کرنے حق کو تسلیم کیا ہے۔‘

دوسری جانب اس فیصلے کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظمیوں اور سرکردہ امریکی شخصیات نے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بنیادی اور ضروری آزادیوں‘ پر حملہ ہے۔

امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی نے ٹوئٹر پر بیان میں اس فیصلے کو کروڑوں شہریوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے صرف 50 برس قبل کیے گئے فیصلے کو ہی ختم نہیں کیا بلکہ سب سے زیادہ نجی و ذاتی نوعیت کے فیصلے کو بھی ختم کرتے ہوئے سیاست دانوں اور نظریوں کے تابع کر دیا ہے۔ یہ کروڑوں امریکیوں کے بنیادی حق پر حملہ ہے۔‘

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میزوری وہ پہلی ریاست ہے جس نے اس پر عمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسقاط حمل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی تنقید کرتے ہوئے اس کو ’پیچھے کی جانب قدم‘ قرار دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے