گلگت میں دھرنا کیوں ہو رہا ہے؟
دانش ارشاد
اکتوبر 2005 میں گلگت میں فسادات کے دوران رینجرز کے 2 اہلکار مارے گئے جبکہ رینجرز کی فائرنگ سے کئی عام لوگ جن میں 2 خواتین بھی شامل تھیں زندگی کی بازی ہار گئے۔
گلگت میں رینجرز کے قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کیا گیا اور گلگت کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ان کا مقدمہ چل رہا تھا کہ 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد اس مقدمے کو گلگت کی انسداد دہشتگردی عدالت سے فوجی عدالت میں منتقل کر دیا گیا،فوجی عدالت نے نامزد ملزمان کو سزائے موت سنا دی۔
دوسری جانب رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے پر مقامی افراد کی درخواست پر درج ایف آئی آر پر تاحال کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔
فوجی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملزمان کے لواحقین نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی پنچ میں اپیل کی جس میں وکیل نے فوجی عدالت کے رجسٹرار کو فریق بنانے کے بجائے گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور انتظامیہ کو فریق بنایا اس پر لاہور ہائی کورٹ نے دائرہ کار کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔
فیصلے کے بعد لواحقین نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا اور پھر وکیل نے غلطی دہراتے ہوئے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور انتظامیہ کو فریق بنایا چونکہ وفاق اس میں فریق نہیں تھا اس لئے سپریم کورٹ نے بھی درخواست کو نمٹا دیا۔ اب گزشتہ ایک سال سے مقدمہ گلگت بلتستان چیف کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
قیدیوں کے لواحقین اور دھرنا دینے والوں کا کہنا ہے کہ قیدی بے گناہ ہیں اور ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔
خیال رہے کہ ان 14 قیدیوں میں سے دوران حراست ایک قیدی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے چل بسا تھا۔ اب مظاہرین کا 13 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ہے۔

