اللہ نیوٹرلز سے پوچھے گا کیونکہ اُن کے پاس طاقت ہے: عمران خان
پاکستان میں اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ’ملک کے میر جعفر اور میر صادق سے مل کر ہماری حکومت کے خلاف سازش کی گئی۔‘
سنیچر کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب عمران خان نے کہا ’میں اداروں سے پوچھتا ہوں کہ کرپشن کے خلاف اکیلے میں نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ آپ ایسے لوگوں کو بٹھا دیتے ہیں تو ملک تباہ ہو جاتا ہے۔‘
’اللہ نیوٹرلز سے پوچھے گا کہ بڑی اچھی بات کہ اپ نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں لیکن طاقت آپ کے پاس ہے آپ نے کیسے ان چوروں کو ملک پر مسلط ہونے دیا؟‘
ججز سے پوچھتا ہوں کہ جنہوں نے اس ملک کو لُوٹا آپ نے کیسے انہیں این آر او لینے دیا، کیا آپ کو ازخود نوٹس نہیں لینا چاہیے؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جس نے بھی ان ڈاکوؤں کو ہم پر مسلط کیا اللہ ان سے حساب لے گا۔‘
ان کے احتجاج کا ایک ہی مقصد ہے ’امپورٹڈ حکومت نامنظور۔‘
’میں یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اگر 25 مئی کو یہ ظلم نہ کرتے تو اسی طرح عوام کا سمندر آنا تھا جس نے ایک نعرہ لگانا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور۔ قوم امریکہ کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ان ڈاکوؤں مانتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ 26 مئی کی صبح فیصلہ کیا کہ دھرنا نہیں دیں گے کیونکہ پتا تھا کہ عوام میں پولیس اور رینجرز کے خلاف غصہ تھا کیونکہ انہوں عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا تھا۔
’میں تو امپورٹڈ حکومت کے خلاف نکلا تھا جس نے منتخب حکومت کو ہٹایا۔ بڑے بڑے ڈاکو ہمارے اوپر مسلط کیے گئے۔ میں پیغام دینا چاہتا تھا کہ قوم کیا چاہتی ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’اس دن شام کو انتشار ہونا تھا۔ میری قوم نے رینجرز اور پولیس کے سامنے کھڑے ہو جانا تھا۔ میں نے سوچا کہ لوگ بھی میرے، پولیس بھی میری اور رینجرز بھی میرے ہیں۔‘
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھے پتا ہے تمہاری کوشش کیا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ ہم اپنی فوج اور عدلیہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔‘
’ایک تکلیف یہ کہ امریکہ نے سازش کی اور دوسری تکلیف یہ کہ اس قوم کی اتنی زیادہ توہین کی کہ بڑے بڑے ڈاکوؤں کو ملک پر مسلط کردیا گیا۔‘
سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میرا پاکستان کے اداروں سے سوال ہے کہ آپ نے کیسے ان ڈاکوؤں کو ہمارے اوپر مسلط ہونے دیا؟‘
’انہوں نے پہلے بھی چوری کی اور اب دوسرا این آر او لیا۔ اب نیب میں ترمیم کرکے 1100 ارب روپیہ بچایا ہے۔ اس ملک کے اداروں سے پوچھتا ہوں کہ یہ آپ کا پاکستان نہیں ہے۔ عدلیہ کا کام ہے قانون کی بالادستی قائم کرنا۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’میں بڑے احترام سے پوچھتا ہوں کہ کیا کہیں ایسا ہوتا ہے کہ ملزم قاضی بن جائے۔ شہباز شریف ایف آئی اے پر بیٹھ جائے، نیب پر بیٹھ کر 1100 ارب روپے کا ڈاکہ مارے۔‘

