وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ایک بار پھر عدالت میں چیلنج، فیصلہ کس نکتے پر؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں رواں سال کے آغاز سے ہی وزارت اعلیٰ کا عہدہ سیاسی و آئینی بحران کی زد میں ہے۔
سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے سے شروع ہونے والا بحران چار ماہ میں بھی ختم نہیں ہو سکا۔
پنجاب اسمبلی میں یوں تو دو بڑی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز اکثریتی ارکان کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں تاہم ق لیگ کے 10 اور پیپلز پارٹی کے سات اراکین کے علاوہ تین آزاد ارکان میں سے ہر ایک کا ووٹ پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزارت اعلیٰ کا الیکشن ہارنے کے بعد پرویز الہیٰ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچے ہیں اور اب یہ فیصلہ ہونا ہے کہ ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت کی ہدایت قانونی حیثیت رکھتی ہے یا پھر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کو ہی مانا جائے گا۔

