پاکستان

پاکستانی فوج اور افغان طالبان میں پھر سرحدی جھڑپ، 10 زخمی

دسمبر 15, 2022

پاکستانی فوج اور افغان طالبان میں پھر سرحدی جھڑپ، 10 زخمی

پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے سرحدی گارڈز کے مابین جھڑپ میں کم از کم 10 شہری زخمی ہوئے جو چمن کے علاقے میں موجود تھے۔

جمعرات کو بلوچستان کے ضلع چمن میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے بعد قریبی ہسپتال میں ہنگامی صورتحال کا نفاذ کیا گیا۔
۔
سول ہسپتال چمن کے سینیئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اختر اچکزئی نے بتایا کہ 10 زخمی شہریوں کو ہسپتال لایا گیا ہے جنہیں جسم کے مختلف حصوں میں بارود اور چھرے لگے ہوئے ہیں۔

کشیدہ صورتحال کے پیش نظر چمن کے ساتھ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

ایک ہفتے کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے جب چمن میں پاکستانی اور افغان فورسز نے ایک دوسرے پر گولہ باری کی ہے۔

چمن کی ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ جمعرات کی دوپہر کو تازہ جھڑپوں کا آغاز بھی چمن کے علاقے کلی شیخ لال محمد سے ہوا ہے جہاں 11 دسمبر کو پاکستانی اور افغان فورسز آمنے سامنے آئی تھیں اور اس کے بعد جھڑپیں باقی علاقوں تک پھیل گئیں۔

ان جھڑپوں میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فورسز باڑ کی مرمت کرنا چاہتی تھیں کہ سرحد پر تعینات افغان طالبان نے فائرنگ کی اور پاکستانی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی۔

ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے راکٹ اور مارٹر گولے داغے جا رہے ہیں جبکہ توپوں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے