بینچ ٹوٹ گیا، سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس پانچ ججز کے سامنے
جہانزیب عباسی . اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چار ججز صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کرانے کے ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے عدالتی بینچ سے الگ ہو گئے ہیں.
پیر کو مقدمے کی سماعت دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی تو عدالت میں پانچ ججز آئے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ چار ججز نے مقدمے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
ان میں سے دو ججز جسٹس اعجاز االاحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اعتراض کیا تھا۔ سماعت سے خود کو الگ کرنے والے دیگر دو ججز میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس لینا ناقابل وضاحت ہے.
اس وقت چیف جسٹس کے ساتھ جسٹس منیب اختراور جسٹسمحمد علی مظہر ایک طرف ہیں جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹسمنصورعلی شاہ دوسری طرف ہیں.
قبل ازیں عدالت سے جاری کیے گئے 23 فروری کی سماعت کے تحریری حکمنامے کے مطابق نو رکنی بینچ میں سے چار ججز نے اپنے اختلافی نوٹ لکھے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے دو سینیئر ترین ججز کو عدالتی بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے پہلے دن ہی عدالتی سماعت کے اختتام پر اپنے اختلافی نوٹ لکھے۔
تحریری حکمنامے کے آخری صفحے پر لکھا گیا کہ چار ججز کے اختلاف کے بعد عدالتی بینچ کی تشکیل نو کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا۔
گزشتہ سماعت کے دوران جمعے کو حکمران اتحاد میں شامل تین سیاسی جماعتیں نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراض کرتے ہوئے اُن سے مقدمہ نہ سننے کی درخواست کی تھی۔
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے مقدمے کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

