پارلیمان کا مشترکہ اجلاس، ثاقب نثار کے کتبےاور ججز کے خلاف تقاریر
پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف کرنے اُٹھا کر احتجاج کیا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے موجودہ ججز اور اُن کے بیٹوں کے بارے میں آڈیو لیکس کے حوالے سے تقاریر کی گئی ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’نوے دن میں الیکشن ہونا چاہیے، لیکن الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہیے۔ تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن اکٹھا ہونا چاہیے۔ نگراں سیٹ اپ میں ہونا چاہیے۔‘
’جناب چیف جسٹس صاحب آپ مداخلت کیوں کریں گے، آپ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ ہم ٹکٹوں کے لیے درخواستیں طلب کر چکے ہیں۔ لیکن کیا فری اینڈ فئیر الیکشن کی زمہ داری صرف پارلیمنٹ کی ہے؟ جب ہم کہہ رہے ہیں کہ اس سے افراتفری کا خدشہ ہے تو کیا اس پر غور نہیں کیا جا سکتا؟‘
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’کیا آڈیو لیکن جو ہوئی ہیں تو علی افضل سپاہی کا کوئی وجود نہیں ہے؟ کیا اس کی تحقیق نہیں ہونی چاہئیے؟ کیا دو بیٹوں کی کہانی نہیں ہے؟ ان بیٹوں کی کہانی زبان زد عام ہے، علی سپاہی کی کہانی زبان زد عام ہے۔‘

