فواد چوہدری کے راستے کھولنے کی استدعا پر چیف جسٹس نے کیا کہا؟
پیر کو تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری اچانک چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ریڈ زون کے داخلی راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ لگتا ہے ہم غزہ میں ہیں، وکلاء کو بھی آنے سے روکا جا رہا ہے، ریڈی زون کے داخلی راستوں پر جھگڑے ہو رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے فواد چوہدری کی ریڈ زون کے داخلی راستے کھلوانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ اپنے سکیورٹی اقدامات کر رہی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت کر رہے ہیں، ہزاروں وکلاء کا آنا ضروری نہیں، وکلاء کو آپ نے کال دی ہے تو ان سے بات کریں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی جماعت نے کسی کو کال نہیں دی، وکلاء کا کنونشن ہے اس کے لیے آنے والوں کو بھی روکا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اس سب سے کیا لینا دینا؟
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ازخود نوٹس پر پہلے ہی مسائل بنے ہوئے ہیں، آپ پھر سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی احاطے میں معمول کی شناخت کے بعد وکلاء آسکتے ہیں، گنجائش کے مطابق ہی کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر وکیل کو کمرہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

