عدالتی فیصلے کے بعد پارلیمان اپنے حق پر ڈٹ جائے: نواز شریف
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب میں الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے زندہ رہنا ہے کہ تو پارلیمنٹ کو اپنے حق پر ضرور اصرار کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹ نے چند دن پہلے قانون پاس کیا اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘
منگل کو لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کو بے وقعت کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ حکومت کی کوئی رٹ نہیں رہنے دی گئی۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’70 برس سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے آ رہے ہیں، یہی تماشہ دیکھ رہے ہیں، لوگوں کی منتخب حکومت کو نکال دیا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آمروں کے لیے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جاتا ہے۔ مجھے گاڑ فادر اور سسیلین مافیا تک کہہ دیا گیا۔ کیا نظریہ ضرورت صرف ڈکیٹروں کے لیے ہے کبھی سیاستدانوں کے لیے بھی استعمال ہو جاتا۔‘
اس سے پہلےمسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا تھا کہ ’وفاقی کابینہ کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دینا کافی نہیں۔ آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر لاڈلے کو مسلط کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔‘
منگل کو ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’آج کا فیصلہ اس سازش کا آخری وار ہے جس کا آغاز آئین کو ازسر نولکھ کر پنجاب حکومت پلیٹ میں رکھ بنچ کے لاڈلے عمران کو پیش کی گئی کہ لو بیٹا، توڑ دو تاکہ ہم جیسے سہولت کاروں کی موجودگی اور نگرانی میں تمھیں دوبارہ سیلیکٹ کیا جائے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’ڈس کوالیفکیشن ہو تو ہو جائے! پہلے بھی حق بات کہنے کی پاداش میں ڈس کوالیفکیشز بھگتی ہیں، اب بھی بھگت لیں گے۔ یاد رہے کہ اقامہ جیسے مذاق پر نواز شریف کی ڈس کوالیفیکیشن آج بھی برقرار ہے۔ آپ کو شاید کالے ڈبوں میں منہ چھپا کر گھومنے والے بزدلوں کو دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔‘
قبل ازیں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’آج چار اپریل کو ایک مرتبہ پھر عدل و انصاف کا قتل ہوا ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’آج ہی کے دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر صدارتی ریفرنس 12 سال سے عدالت میں پڑا ہوا ہے۔‘

