پاکستان

چیف جسٹس بندیال کی حیثیت متنازع، استعفیٰ دینا چاہیے: حکومت

اپریل 7, 2023

چیف جسٹس بندیال کی حیثیت متنازع، استعفیٰ دینا چاہیے: حکومت

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی حیثیت متنازع ہو چکی ہے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘

جمعے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ آئینی بحران ازخود نوٹس سے شروع ہوا۔ ڈیڑھ لاکھ کیسز زیرالتوا ہیں جن پر آپ آئین کے مطابق ازخود نوٹس لے سکتے ہیں۔ اس سے مس کنڈکٹ، آئین کی غلط تشریح اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا ہے جس پر چاروں ججز کے فیصلے مہر لگاتے ہیں۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کی اپنی پوزیشن متنازع ہو چکی ہے، انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو کسی بھی سیاسی تنازع سے بچنے کے لیے اپنے پچھلے نوٹ میں فل کورٹ کی تشکیل کی تجویز دی تھی کیونکہ اس سے ادارے پر عوام کا اعتماد قائم رہتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کا آج کا فیصلہ بہت اہم ہے۔ اس فیصلے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایک سماعت میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے انتخابات کی پیٹیشن کو چار ججز نے مسترد کیا تھا جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے سے فیصلے آج وہ مکمل ہو جاتا ہے۔‘

مریم اورنگزیب نے کہا ’چار اکثریتی ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس یحییٰ آفریدی اور اب جسٹس اطہر من اللہ سمیت چاروں نے فیصلہ دے دیا ہے اور آج کے فیصلے میں نہ صرف عدالتی کارروائی کے اوپر سوالیہ نشان ہے بلکہ دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ نہ وہ اس بینچ سے الگ ہوئے تھے اور نہ انہوں نے بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کی تھی۔ اور انہوں نے اپنے تینوں ساتھی ججز کے اتفاق کرتے ہوئے پیٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دیا اور ڈسمس کر دیا۔‘

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کیے گئے جسٹس اطہر من اللہ کے تفصیلی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے از خود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا تھا اور وہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کے بارے میں دی گئی آرا سے متفق ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے