ضمانتیں کروا رہا ہوں، پیش نہیں ہو سکتا: عمران خان کا نیب کو جواب
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کو 22 مئی تک مقدمات میں ضمانتیں لینے کا وقت دیا ہے اس لیے نیب کے روبرو پیش نہیں ہو سکتے۔
نیب راولپنڈی نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 18 مئی کو پیش ہونے کا نوٹس دیا تھا۔
عمران خان نے نیب انکوائری کو انوسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نیب قانون سے متصادم قرار دیا۔
عمران خان نے نیب سے انکوائری رپورٹ بھیجنے کی بھی درخواست کر دی۔
نی کی جانب سے کال اپ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدم حاضری پر قانونی کارروائی ہوگی۔
عمران خان کو کیس سے متعلقہ دستاویزات بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
عمران خان نے نیب راولپنڈی کے نوٹس پر تحریری جواب میں کہا کہ وہ لاہور میں ضمانت کروانے کے لیے موجود ہیں اس لیے پیش نہیں ہو سکتے۔
تحریری جواب کے مطابق نیب کی طلبی کے نوٹس میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، ریکارڈ میں کسی کرپٹ پریکٹس کا ذکر نہیں۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے کا مقصد سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہ، الزامات کے حوالے سے انکوائری رپورٹ تاحال نہیں دی گئی۔

