کالم

آنے والے نتائج سے خوفزدہ

جنوری 15, 2024 3 min

آنے والے نتائج سے خوفزدہ

Reading Time: 3 minutes

برادر سلمان یونس کا ماننا ہے کہ لارجر ریکنسلیئیشن پر اتفاق کے باوجود دو بنیادی نقاط پر مزید گفتگو کی ضرورت ہے۔
١۔ایک بڑے اتفاق رائے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان تھا اور شاید اب تک ہے۔
٢۔پہلے احتساب اور پھر انتخاب کی پیشگی شرط لغو اور کار دارد ہے۔

اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ عمران خان کے فاشسٹ رویے پر تقریبا“ روز ہی لکھا اور اس کے ایک غیر سیاسی حیوان ہونے کا بھی ادراک ہمیشہ سے ہے اور نو سال کی میموریز میں جابجا موجود ہے۔

دراصل مکھو کو جب یہ پتہ چل جاتا ہے کہ وہ مولا جٹ کی پکی پکی معشوق ہے اور اس غرے میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ مولے کے پاس اس کا کوٸی متبادل بھی موجود نہیں تو پھر مکھو کا سینہ تان کر کھیت میں ناچنا ایک غیر معمولی بات بھی نہیں ہوتی اور اگر مکھو مونہہ متھے لگتی ہو اور اس کی اپنی ذات سے محبت بھی لافانی ہو تو آپ خود سوچیں کہ بنا پنکھ کے ہی اڑنے لگتی ہے۔

گویا ان کی اور بہت سے دوستوں کی کومینٹس میں دی گئی اس رائے سے بہت حد تک اتفاق ہے۔
لیکن جن چیزوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ عوام میں مقبولیت رکھنے کی وجہ سے عمران خان اس گھر کا ایک سٹیک ہولڈر ہے.

اس کی مثال ایسے دی جاسکتی ہے کہ ایک گھر میں باپ،ماں،دو بیٹیاں اور دو بیٹے رہتے ہیں اور ایک بیٹا ڈرگ ایڈکٹ ہوجاٸے تو آپ کے پاس کیا راستے رہ جاتے ہیں؟آپ اس کو باندھ دیں؟گھر سے نکال دیں؟تشدد کریں؟جیل میں بند کروا دیں یا پھر مروا دیں؟ان میں سے کون سا حل اس گھر میں سکون کو واپس لا سکتا ہے؟صاف ظاہر ہے ری ہیبلیٹیشن ہی اس کا واحد حل ہے جو اس گھر کا سکون واپس لا سکتا ہے۔

اس سے پہلے بھٹو اور بگٹی کو مار کر آپ دیکھ چکے ہیں کہ دکھتے ہوئے دانت اکھاڑ دینے کا نام علاج نہیں بلکہ اس سے مرض لاعلاج اور مہلک ہوجاتا ہے۔

اب اس لڑکے کا ماضی اس کی ری ہیبلیٹیشن میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔
اگلا سوال ہے کہ عمران اس پر راضی ہوگا کہ وہ باقی مخلوق کو اپنے برابر کا انسان سمجھے؟
بھائی اگر راستہ نہیں نکال سکتے تو سیاست دان کیا دودھ جلیبیاں کھانے کے لیے بنے ہو؟
جو عمل کمپنی بہادر کی طرف سے اس وقت روا رکھا گیا ہے اس کی حمایت کی جاسکتی ہے؟

کیا آپ کے لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ ہر عمل کا ایک ردعمل آٸے گا؟عمران کے حامی سب کے سب اس کی کلٹ نہیں ہیں بلکہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اصل مجرم کو پہچاننے کی بجائے مجرم کو ہی مظلوم سمجھ رہے ہیں اور زور زبردستی ووٹنگ کے نتائج کو روکنے کا عمل بہت بار ہوچکا اور ایک بار بھی نتیجہ خیز نہیں ہوا۔

احمد علی کاظمی کو داد دیے بنا نہیں رہا جاسکتا جو یہ بات کہہ رہا ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتیں جس دھندے میں ملوث ہیں اس کا نتیجہ ایڈز ہی ہوگا۔

پہلے احتساب یا پہلے اتفاق رائے کی شرط انتخابات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے والی بات یقینی طور پر لغو ہے لیکن کون سا الیکشن؟ایسا الیکشن جس کے بارے میں سڑک پر چلنے والے دس میں سے نو کا خیال ہے کہ کے ایک فریق کو اس کھیل میں ہرانا ریاست کی اولین ترجیح ہے؟

وہ الیکشن جس کے جھوٹے ہونے پر سب کو یقین ہے؟گویا بڑھتی عمر اور رشتہ نہ آنے کی وجہ سے لڑکی کی شادی کسی نشئی سے کردی جائے؟

پچھلی تحریر بہت سے لوگوں نے چونکہ یہی سوال اٹھائے ہیں اس لیے فرداً فرداً جواب کی بجاٸے وال پر ہی لکھ دیا ہے۔
بخدا ہم جمہوریت کے دشمن نہیں ہیں،آنے والے نتائج سے خوفزدہ ہیں.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے