پاکستان

ہم سمجھے آئی ایم ایف کا مال ہے، بینک کیش وین سے کروڑوں لوٹنے والوں کا بیان

اپریل 1, 2025 2 min

ہم سمجھے آئی ایم ایف کا مال ہے، بینک کیش وین سے کروڑوں لوٹنے والوں کا بیان

Reading Time: 2 minutes

پشاور میں بینک کی کیش وین سے کروڑوں روپے لوٹنے والے گروہ میں شامل ڈرائیور نے کہا ہے کہ وہ سمجھے یہ آئی ایم ایف کا مال ہے تو اس لیے جائز ہے۔

پولیس کی تحویل میں ایک مقامی یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں چاروں گرفتار ملزمان نے بینک کی کیش وین لوٹنے کی تفصیلات بتائیں۔

ایک ملزم نے کہا کہ اُنہوں نے پہلے یہ منصوبہ گپ شپ میں بنایا اور پھر بینک کی کیش وین کے ڈرائیور فرید سے پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ مال لوٹا جا سکتا ہے کیونکہ بینکنگ سیکٹر سودی کاروبار ہے اس لیے اس کی رقم کو لوٹ کر استعمال کرنا درست ہے۔

ہتھکڑیاں لگے اور سروں پر کالے غلاف پہنائے انڈر ٹرائل ملزمان کو انٹرویو کے لیے میڈیا کے سامنے پیش کرنے پشاور پولیس کی ایک غیرقانونی حرکت ہے تاہم ملزمان نے عدالت میں پیشی سے قبل ہی جرم کی تمام تفصیلات بیان کیں۔

ایک ملزم نے کہا کہ بینک وین سے کیش لوٹنے کے دوران اُس نے پستول کو بغل میں دبایا اور رقم کو دو تھیلے دونوں ہاتھوں میں اُٹھا کر موقع سے فرار ہوا۔

ڈرائیور فرید نے بتایا کہ اُنہوں نے سمجھا تھا کہ یہ رقم چونکہ آئی ایم ایف سے بینکوں کو آتی ہے اور اس کی بین الاقوامی انشورنس ہوتی ہے تو اس لیے کسی کو نقصان نہیں ہوگا۔

ایک اور ملزم کا کہنا تھا کہ اُس کی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کی دکان ہے اور وہ اپنے کاروبار کو لوٹی ہوئی رقم سے وسعت دینے کا سوچ رہا تھا۔

ملزم نے کہا کہ اُن کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی اُس کے لیے بھی رقم کی ضرورت تھی۔

ایک ملزم نے کہا کہ وہ تبلیغ کے ساتھ تین دن کے لیے جانے کا پروگرام بنا چکا تھا جب درمیان میں یہ واردات کرنے کا وقت آیا۔

تین کروڑ 70 لاکھ روپے کا کیش لوٹنے والوں نے کہا کہ اُنہوں نے سب میں برابر حصہ بانٹنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تینوں ملزمان کو مقامی عدالت نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جیل بھیج دیا ہے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے