پاکستان

بلوچستان میں عید پر ویرانی، یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج

اپریل 1, 2025 3 min

بلوچستان میں عید پر ویرانی، یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج

Reading Time: 3 minutes

بلوچستان میں بی وائی سی کی اپیل پر صوبے کے بلوچ آبادی والے متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 16 برسوں سے ہر سال عید کے موقع پر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ہوتا تھا تاہم اس بار کی عید قدرے مختلف رہی۔

اس سال عید پر احتجاج کا دائرہ کار محدود نہیں تھا۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان کے متعدد شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔

بی وائی سی کی مرکزی قیادت میں سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمّی بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ سمیت کئی رہنما اور کارکن گذشتہ کئی روز سے حراست میں ہیں۔

عید کے روز ان افراد کی گرفتاری کے خلاف نہ صرف بی وائی سی کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی بلکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے زیر اہتمام لک پاس کے مقام پر دھرنا جاری رہا۔

بی وائی سی کی کال پر صوبے کے بلوچ آبادی والے متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کیا گیا۔

دوسری جانب بی وائی سی کی خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ضلع کوئٹہ سے متصل مستونگ کے علاقے لک پاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام دھرنا بھی جاری رہا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ عید کے موقع پر ایک دھرنا بھی چل رہا ہے جس کے شرکا نے نماز عید بھی دھرنے کے مقام پر ادا کی۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہ لوگ کسی ووٹ، فنڈ یا کسی سکیم کے لیے یہاں جمع نہیں ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات تاریخ کا حصہ رہے گی کہ ان لوگوں نے اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کی خاطر عید اس میدان میں گزاری۔

اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا واحد مطالبہ ہے کہ حکومت ان خواتین کو رہا کرے اور اگر اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا تو آئندہ دو تین روز تک ہم اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

بلوچستان میں شاہراہوں پر مسافر بسوں کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں لوگ عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقے نہیں جاسکے.

شاہراہوں کی بندش سے عید پر لوگوں کو مشکلات کا سامنا
خضدار سے لانگ مارچ کے روانہ ہونے کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے کوئٹہ کے قریب لک پاس کے مقام پر کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان کو جوڑنے والی شاہراہ کو بند کرنے کے علاوہ دو متبادل راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

ان رکاوٹوں کی وجہ سے جہاں لوگوں کو آمدورفت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے وہاں کئی افراد کو عید کے موقع پر اپنے آبائی علاقوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ان شاہراہوں پر مسافر بسوں کی بندش سے بڑی تعداد میں لوگ عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقے نہیں جاسکے۔

اس کے علاوہ بڑی تعداد میں کنٹینرز اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور عملے کو عید میدانوں اور ہوٹلوں پر گزارنی پڑی۔

لک پاس ٹنل کے اندر جن کنٹینروں کو کھڑا کیا گیا ہے ان کے ڈرائیوروں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں کھانے پینے کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ان شاہراہوں کو لانگ مارچ کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور حکومت نے یہ اقدام لوگوں کی حفاظت کے لیے لیا ہے۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج
دوسری جانب بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے رشتے داروں نے عید کے روز بھی احتجاج کیا۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین نے بھی شرکت کی۔

مظاہرے میں شریک حوران بلوچ نے بتایا کہ ان کا خاندان بھی جبری گمشدگیوں سے متاثر ہے۔

حوران بلوچ نے دعویٰ کیا کہ پچھلے سال ان کے خاندان کے دو افراد کو اٹھایا گیا تھا۔ ’ایک سال دو ماہ گزرنے کے باوجودہ وہ بازیاب نہیں ہوئے تھے کہ اب رواں سال 8 مارچ کو میرے ماموں کے بیٹے داؤد سمالانی کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بتایا کہ خوشی منانے کی بجائے گزشتہ 16سال سے ہر عید پر لاپتہ افراد کے رشتہ دار احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے.

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے