ہوائیں نہ روکو۔۔!! اعجاز منگی کا کالم
Reading Time: 5 minutesسرد جنگ کے دوراں چلی میں لہو گرمانے والے گیت گانے والے سنگر کا نام وکٹر ہارا تھا۔
وکٹر ہارا کے فن اور فکر سے متاثر ہوکر سندھ میں میوزک کے معرفت اسٹیبلشمینٹ کی مزاحمت کرنے والے فنکار کا نام بیدل مسرور ہے۔ وہ بیدل مسرور جس نے شیخ ایاز کے اس گیت کو انقلابی ترانہ بنا دیا ہے جس کے بول ہیں:
میں مجرم ہوں
میں مجرم ہوں
ہے باغی ہونا جرم اگر
میں مجرم ہوں
میں مجرم ہوں
بیدل مسرور کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ شاعری کی سلیکشن خود کرتا ہے۔ اس کو کمپوز بھی کرتا ہے۔ اور گیت بھی لکھتا ہے۔
اس نے سندھی زبان کے ایک کم مشہور شاعر کی اس نظم کو بھی موسیقی میں ڈھالا ہے جس کے بول ہیں:
” ہوائیں نہ روکو
نہ روکو نہ روکو نہ روکو
ہوائیں نہ روکو
بدن جن پر سگرٹ بجھائے گئے
گھروں سے نصف شب اٹھائے گئے
وہ لوگ جو جبری لاپتہ بنائے گئے
ان کی ملاقات کے لیے بھٹکتی
بہنیں اور مائیں نہ روکو
ہوائیں نہ روکو “
جٰی ہاں! جب بھی کوئی دیس آزاد ہونے کی امنگ سے سرشار ہونے لگتا ہے تب اس کے نعرے بھی نغمے بن جاتے ہیں اور اس کے نغمے بھی نعروں میں ڈھل جاتے ہیں۔
ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سال تو بدلتے ہیں مگر وبال نہیں بدلتے۔ شکاری بدل جاتے ہیں مگر جال نہیں بدلتے۔
ہمارا وطن اس وادی کی طرح ہے جس میں موسم بہار کی آمد پر پابندی عائد ہے اور خزاں کو مستقل موسم بنا دیا گیا ہے۔
جرمن ادیب اور شاعر برٹالٹ بریخت نے اپنے ڈرامے ”لائف آف گلیلو “ میں ایک جگہ لکھا ہے:
”وہ رات بہت خطرناک ہوتی ہے، جس رات میں انسان کا دل ایک نئے سچ سے آشنا ہونے لگتا ہے۔ پھر بھلے وہ سچ دور ستاروں کے بارے میں ہو“
ہمارے چند صحافی نما ادیبوں اور ادیب نما صحافیوں کے دل کا سنگم اس سچ کے ساتھ ہو چکا ہے جو سچ دور ستاروں کے بارے میں نہیں بلکہ اس دھرتی کے بارے میں ہے۔ وہ دھرتی جس کوکبھی ایاز نے ” بیرن “ کہہ کر پکارا اور کبھی اس کے بارے میں لکھا:
” مکھ پر ڈھارے کھیس
ابھاگن دھرتی جب سوجاتی ہے
خسرو رونے لگتا ہے “
یہ دھرتی اس وطن کی ہے جس وطن کے بارے میں فیض نے فرمایا ہے:
” نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے “
اور جن انسانوں کے سر میں یہ جنون آشیانہ بنا لیتا ہے، پھر ان کا حشر وہی ہوتا ہے، یعنی
” تنہا پس زنداں، کبھی رسوا سر بازار “
اسلام آباد کے اس صحافی کی طرح جس کو بدھ کی شب اپنے گھر سے یوں اٹھایا گیا جیسے وہ جرنلسٹ نہ ہو بلکہ دہشتگرد ہو۔
مارگلہ کے پہاڑوں کے سائے میں اپنے سونے جیسے بال چاندی کرنے والا اے وحید مراد اس ملک کے ان چند صحافیوں میں سے ایک ہے، جن کے قلم کا سر کبھی نیچے نہیں ہوا۔
ایک راستہ دشوار اور دوسری بات کہ منزل دور، یہ مشکل سفر صرف وہ مسافر کرسکتا ہے جس کے سینے میں وہ ساز بجے جس ساز کے بارے میں شاہ لطیف نے لکھا تھا:
”کاش! میں اس شعلہ نوا ساز سے
راہ وفا کو منور کر سکوں “
وحید مراد اس ضمیر کا قیدی رہا جو ضمیر کے قیدی مسکرا کر گنگناتے ہیں:
”جو تیری زلف کے اسیر ہوئے
انہیں تشویش روزگار کہاں
درد بیچیں گے گیت گائیں گے
اس سے خوش بخت کاروبار کہاں “
وحید مراد سے میری دوستی اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب خود کو قلمی اشرافیہ سمجھنے والے اسلام آباد کے مخصوص صحافی پہاڑوں سے اتر کر آنے والے اس نوجوان کو جرنلسٹ قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔
اس کا سبب صرف اتنا تھا کہ وحید مراد کبھی مال پر مست ہونے کی مشق میں مبتلا نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ حال پر مست رہنے والا شخص رہا۔
کیا وحید مراد کا جرم یہ تھا کہ اسے شروع سے کتابوں سے عشق تھا؟ اس کو وہ مہک اچھی لگتی تھی جو پرانی کتابوں کے آف وائٹ پیجزسے آتی ہے۔ وہ کرائے کے سستے گھروں میں رہا مگر میں نے اس کے ہاتھوں میں ہمیشہ مہنگی کتابیں دیکھیں۔
اس سے مل کر مجھے امریکہ کے فطرت پرست مفکر تھورو کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ
”پرانا کوٹ پہنو اور نئی کتاب پڑھو “۔
گذشتہ دن جب میں نے اسے ٹی وی سکرین پر عدالت میں پیش ہوتے ہوئے دیکھا تو مجھے وہ وحید مراد شدت کے ساتھ آیا جو حسین فطرت اور ذہین لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ وہ بذات خود شاعر نہیں ہے مگر شاعری اس کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی ہے۔
میں نے آج تک اس کو وسکی کی چسکی لیتے ہوئے بھی نہیں دیکھا مگر جب وہ باچا خان کے شاعر بیٹے غنی خان کی شاعری پشتو میں پڑھتا اور اس کا اردو میں فی البدیہہ ترجمہ کرتا جاتا ہے تب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی بلند پہاڑ کا سینہ چیر کر کہیں دور کوئی آبشار پھوٹ نکلا ہو۔
وہ خوبصورت شاعری کو اپنی مایا سمجھتا ہے۔ اس نے کبھی سرحدوں میں نہیں سوچا۔ کبھی کبھی تو مجھے سکھر کے صوفی شاعر حضرت بیدل کا معشوق محسوس ہوتا ہے۔ وہ بیدل فقیر جس نے لکھا تھا:
”حد حد چلیا ہرکوئیو بیحد چلیا نہ کوء
بیحد کے میدان میں بیدل کھڑا اکیلا روء “،
وہ بیحد کے بازار میں خاموش صدا دینے والا ملنگ فقیروں جیسا ہے۔ وہ جس نے برسوں سے اپنے فیس بک پیج کی وال پر سچل سرمست کے یہ اشعار سجائے ہیں:
”شعار خاص سے الجھے، شعور عام سے الجھے
ہمارا مسلک پرواز کس کس دام سے الجھے
صبا جب زلف جاناں کا پیام مشکبو لائی
کبھی ہم کفر سے الجھے کبھی اسلام سے الجھے “
سچل کے سنہرے حروف جس صحافی کی زندگی کا سچ ہے اس نے کبھی سچ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
وہ خوش شکل، خوش لباس اور خوش خوراک شخص ہے مگر اس کے لیے اہم بات پھر بھی وہ لوگ ہیں جن میں سچ کہنے کی طاقت ہے۔
یہی سبب ہے کہ اسلام آباد کا اوکھا جرنلسٹ مطیع اللہ جان اس کا دوست ہے۔
عام طور پر یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ انسان کی پہچان اس کے دوست ہوا کرتے ہیں۔ ممکن ہے یہ بات کسی حد تک درست ہو۔ مگر میں نے دیکھا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ انسان کو دنیاداری کے حساب سے ہاتھ تو ہر کسی کے ساتھ ملانا پڑتا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ انسان پنجہ کس سے لڑاتا ہے؟
وحید مراد جبر سے پنجہ لڑانے والا شخص ہے۔
وحید مراد سے میری محبت نئی نہیں۔ ہمارا پیار پرانی شراب جیسا تیکھا اور ہلکا ہے۔
گذشتہ شب جب میڈیا کی دنیا کے چند ”مال خور “ افراد جرنیلی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اسے جرنلزم کی دائرے سے باہر نکالنے کے فتوے صادر کر رہے تھے تب مجھے ایسا لگا جیسے ہمارا وطن ایک ایسا چمن بن گیا ہو جس میں گھس آنے والے چور ہر مور سے کہتے ہیں:
”یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں “
یہ وطن چوروں کا یا موروں کا؟ یہ سوال ایک ایسی لکیر کھینچ رہا ہے جس ایک طرف جابر اور مغرور لوگ کھڑے ہیں اور دوسری طرف جمہوری مگر مجبور لوگ!
مگر اب ماحول بدل رہا ہے۔ اب مظلوم لوگ مزاحمت پر اتر آئے ہیں۔
افریقہ کے ایک ناول نگار نے لکھا ہے:
”وہ مرگیا مگر ایسے نہیں جیسے پانی میں پتھر گرتا ہے۔ ہم نے اس کو مٹی میں بیج کی طرح بویا ہے“
مجھے غصے میں سگرٹ سلگانے والی عاصمہ جہانگیر بہت اچھی لگتی تھیں۔ جب وہ وفات پاگئیں تب مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ایک مہتاب کیلاش پہاڑوں کے پیچھے مدفون ہوگیا۔
اب جب میں وحید مراد کی آزادی کے لیے بنیادی کردار ادا کرنے والی اور ہر مظلوم کے لیے جبر سے جوچ جانے والی قانون دان ایمان مزاری کو دیکھتا ہوں تو مجھے امریکی ناول نگار ہیمنگوے کا ایک ناول شدت کے ساتھ یاد آنے لگتا ہے۔ وہ ناول جس کا نام ہے ”سورج ابھرتا بھی ہے۔“