تھانے میں سگریٹ پینے اور اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کا الزام، دو صحافی حوالات میں
راولپنڈی کے تھانہ نیو ٹاؤن کی پولیس نے نعیم منہاس نامی ایک صحافی کو تھانے کے اندر سگریٹ پینے سے روکے جانے پر جھگڑے کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق نعیم منہاس نامی ایک مقامی روزنامے سے منسلک صحافی نے تھانہ نیو ٹاؤن میں محرر کے کمرے میں سگریٹ سلگایا جس پر اُس کو روکا گیا کہ یہ عوامی مقام ہے اور کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ روکے جانے پر بھی مذکورہ شخص منع نہ ہوا اور بدتمیزی کی جس پر اُس کو سختی سے کہا گیا تو وہ اہلکاروں سے دست و گریبان ہوا۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے نعیم منہاس نامی شخص کو حوالات میں بند کیا تو چند مقامی کرائم رپورٹرز اور اسلام آباد راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس کے ایک دھڑے کے صدر طارق ورک اُن کو چھڑانے تھانے پہنچے۔
ذرائع کے مطابق رات گئے تک ایس ایچ او طیب بیگ کی منت سماجت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو طارق ورک نے مبینہ طور پر پولیس افسر کو دھمکی دی کہ وہ اُس کے کپڑے اُتروا دے گا۔
پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ دھمکی دینے پر طارق ورک کو بھی حوالات میں بند کیا گیا تاہم اُن پر مقدمہ درج نہ کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ رات کے دوسرے پہر افضل بٹ نامی صحافی رہنما نے راولپنڈی میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات دانیال چودھری سے سفارش کرانے کی درخواست کی۔
مذکورہ سیاسی شخصیت نے رات گئے سی پی او راولپنڈی کو معاملہ حل کرنے کے لیے کہا جس پر نعیم منہاس اور طارق ورک کو صبح پانچ بجے تھانے سے شخصی ضمانت پر گھر جانے کی اجازت دی گئی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں طارق ورک کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ وہ اپنا بندہ چھڑا کر لے جا رہے ہیں اور یہی اُن کی کامیابی ہے۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس پورے ایشو کے دوران کوئی بھی معروف مقامی صحافی اور راولپنڈی کے جانے مانے کرائم رپورٹرز تھانے نہ آئے۔
راولپنڈی کے ایک صحافی نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب بھی کوئی کردار صحافت کا نام استعمال کر کے تھانوں میں اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو پیشہ ور صحافی اپنے دامن کو چھینٹوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

