متفرق خبریں

رن وے پر چلتے جہاز کے انجن میں کھینچ کر ہلاک ہونے والا 35 سالہ اطالوی شہری کیا چاہتا تھا؟

جولائی 14, 2025

رن وے پر چلتے جہاز کے انجن میں کھینچ کر ہلاک ہونے والا 35 سالہ اطالوی شہری کیا چاہتا تھا؟

اٹلی میں رن پر ہوائی جہاز کے چلتے انجن میں پھنس کر ہلاک ہو جانے شخص کے بارے میں پیپل میگزین نے نئی تفصیلات شائع کی ہیں۔

اطالوی اخبار ’کورئر ڈیلا سیرا‘ کے مطابق مسافروں سے بھرے طیارے کے چلتے انجن میں کھینچ کر ہلاکت کے ہولناک واقعے میں مرنے والے شخص کی شناخت 35 سالہ اینڈریا روسو‘ کے نام سے ہوئی ہے جو ایک کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرتا تھا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اینڈریا روسو میلان برگامو ایئرپورٹ کے ممنوعہ علاقے میں زبردستی داخل ہوا اور مبینہ طور پر وولٹیا ایئرلائن کے ایک ہوائی جہاز کی طرف بھاگا۔

رپورٹس کے مطابق روسو نے اپنی گاڑی ایئرپورٹ پر چھوڑی اور پھر رن وے کے ایک محدود اور ممنوع علاقے میں داخل ہو گیا جہاں اُس نے مبینہ طور پر خود کو جہاز کے ٹربو فین انجن میں دھکیل دیا۔

وولٹیا ایئرلائنز نے کہا ہے کہ روسو نہ تو مسافر تھا اور نہ ہی اس کا تعلو ایئرلائن کے عملے سے تھا.

اطالوی میڈیا کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روسو ایئرپورٹ پولیس کے اہلکاروں سے بچ کر جہاز کی طرف بھاگا۔ ایک منظر میں وہ جہاز کے ایک انجن پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زمین پر گرتا ہے اور پھر فوراً اٹھ کر دوسرے انجن کی جاتا ہے۔ اسی دوران وہ زمین پر گر پڑتا ہے جبکہ ایئرپورٹ کا عملہ خوفزدہ ہو کر یہ منظر دیکھ رہا ہوتا ہے۔

مقامی پولیس ذرائع کے مطابق ’روسو ماضی میں منشیات کے مسائل سے دوچار رہا تھا اور اب دوبارہ نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا‘۔

ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا، ’پہلے اُس شخص نے جہاز کے دائیں انجن کے حفاظتی جنگلے پر خود کو مارا، اس کے بعد وہ گھوم کر بائیں انجن کی طرف گیا اور پھر یا تو خود کو اس میں پھینک دیا یا وہ اس میں کھینچ لیا گیا۔‘

وولٹیا ایئرلائنز نے ایک بیان میں پیپل میگزین کو بتایا کہ ’ایک شخص، جو نہ تو مسافر تھا اور نہ ہی ایئرپورٹ کا عملہ، جہاز کے اڑان بھرنے سے قبل رن وے پر آیا اور بدقسمتی سے انجن سے ٹکرا گیا جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ ایئرلائن اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے اور ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ سے تعزیت کرتی ہے۔‘

ایئرلائن نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس واقعے میں جہاز میں موجود تمام 154 مسافر اور عملے کے چھ افراد محفوظ رہے۔‘

ایئرلائن نے مزید بتایا کہ ’مسافروں اور عملے دونوں کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کی گئی۔ متاثرہ مسافروں کو دوسری پرواز میں ری بُک کیا گیا جو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجکر 43 منٹ پر روانہ ہوئی۔‘
اس واقعہ پر تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا روسو کا ایئرپورٹ یا ایوی ایشن کے شعبے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

مقامی پراسیکیوٹر ماوریزیو رومانیلی نے برطانوی اخبار میٹرو کو بتایا کہ ’ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کا ایئرپورٹ یا ایوی ایشن کی دنیا سے کوئی تعلق تھا۔ جس گاڑی میں وہ ایئرپورٹ پہنچا اس میں ہر قسم کا سامان موجود تھا مگر کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے اس واقعے کی وضاحت ہو سکے۔‘

تاحال یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ مذکورہ فلائٹ میں اس کی کوئی محبوب شخصیت سفر کر رہی تھی.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے