متفرق خبریں

پاکستان رینجرز نے سندھ میں رہائش کے لیے 300 ایکڑ سے زائد اراضی مانگ لی

جولائی 19, 2025

پاکستان رینجرز نے سندھ میں رہائش کے لیے 300 ایکڑ سے زائد اراضی مانگ لی

پاکستان رینجرز (سندھ) نے باضابطہ طور پر صوبائی حکومت سے سندھ کے چھ اضلاع میں 306 ایکڑ اراضی آپریشنل انفراسٹرکچر اور رہائشی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔

دی نیوز کے امداد سومرو کی رپورٹ کے مطابق سرکاری خط و کتابت سے معلوم ہوا ہے کہ پیرا ملٹری فورس نے مٹھی (تھرپارکر)، نیو چھور (عمرکوٹ)، نارا (خیرپور)، کھپرو (سانگھڑ)، خاکی دڑو (گھوٹکی) اور دیہہ نبو بخش (لاڑکانہ) میں زمین مانگی ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل محمد قیصر منصور کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز (سندھ) کا خط سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ، وزیر اعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام کو بھیجا گیا، جس میں ہر ضلع میں زمین کی ضرورت کی تفصیل درج ہے۔

درخواست کی گئی مخصوص اراضی میں چھاچھرو تعلقہ تھرپارکر (مٹھی) میں 16 ایکڑ، نیو چھور، عمرکوٹ میں 50 ایکڑ، نارا تعلقہ، خیرپور میں 24 ایکڑ، کھپرو تعلقہ، سانگھڑ میں 71 ایکڑ، خاکی دڑو، گھوٹکی میں 100 ایکڑ اور دہ بوکھرانہ میں 45 ایکڑ اراضی شامل ہے۔

وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی رینجرز کو بنیادی طور پر سرحدی حفاظت اور داخلی امن کے نافذ کرنے کا کام سونپا جاتا ہے، بشمول انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اور امن عامہ کو برقرار رکھنے میں پولیس کی مدد کرنا۔

رینجرز کو ابتدائی طور پر 1995 میں کراچی میں تعینات کیا گیا تھا اور بعد میں ان کا دائرہ اختیار پورے صوبہ سندھ تک بڑھا دیا گیا، جہاں یہ محکمہ داخلہ سندھ کے تحت کام کرتے ہیں۔

مراسلے کے مطابق رینجرز کو اصل میں ضروری انفراسٹرکچر کو مدنظر رکھے بغیر تعینات کیا گیا تھا۔ اس سے نمٹنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے 3 جولائی 2006 کو 13 اضلاع میں رینجرز کے لیے مفت اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دی تھی۔

بعد ازاں ان اضلاع میں 19 اکتوبر 2007 کو اور مزید چھ اضلاع میں 2 جولائی 2008 کو زمین الاٹ کی گئی۔ تازہ ترین درخواست باقی چھ اضلاع سے متعلق ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کے سوال کے جواب میں مٹھی، عمرکوٹ اور خیرپور کے ڈپٹی کمشنرز نے زمین کی دستیابی کی تصدیق کی ہے۔

ڈی سی گھوٹکی نے محکمہ جنگلات کے تحت زمین کی دستیابی کی اطلاع دیتے ہوئے اسے رینجرز کو دینے کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح ڈی سی عمرکوٹ نے نیا چھور میں فوری زمین کی الاٹمنٹ کی حمایت کی ہے۔

اس سے قبل 2022 میں رینجرز نے کراچی میں 135 ایکڑ اراضی کی درخواست کی تھی تاکہ وہ اپنے زیر قبضہ 64 سرکاری عمارتوں کو خالی کرائیں، جو 148 ایکڑ سے زائد پر پھیلی ہوئی ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق سندھ بھر میں 231 ایکڑ پر محیط سرکاری سکول، کالج، ہسپتال اور دیگر اداروں سمیت کل 109 سرکاری عمارتیں اس وقت آپریشنل اور رہائشی مقاصد کے لیے پاکستان رینجرز سندھ کے زیر استعمال ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے