پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں کو 10، دس برس قید کی سزائیں
پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اپوزیشن رہنماؤں کو 10، دس برس قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
صوبہ پنجاب میں فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9مئی کے مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت 108 افراد کو قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
پی ٹی آئی کے جن رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئیں اُن میں حامد رضا، عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل شامل ہیں۔ ان تمام رہنماؤں کو دس، دس سال جبکہ جنید افضل ساہی کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے فواد چوہدری، زین قریشی اور خیال کاسترو کو مقدمے سے بری کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈران سمیت 15 پارلیمنٹیرینز کے خلاف تین مختلف مقدمات کے فیصلے سنائے گئے۔
جن ملزمان پر مقدمات چلائے گئے اُن میں قومی اسمبلی کے آٹھ اراکین، متعدد سینیٹرز، چھ سے زائد ارکانِ صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری، کنول شوزب سمیت 260 کارکنان شامل ہیں۔
9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جس نے کئی مقامات پر پرتشدد شکل اختیار کر لی تھی۔
اس دوران فیصل آباد میں بھی مظاہروں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں فوجی تنصیبات، ٹریفک پولیس کی چوکیاں اور متعدد دیگر مقامات شامل تھے جبکہ کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ان واقعات کے نتیجے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ حکام کا مؤقف تھا کہ ان مظاہروں میں عوام میں خوف و ہراس پھیلایا گیا، ریاستی اداروں پر حملے ہوئے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالا گیا۔
انہی الزامات کی بنیاد پر فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اپوزیشن لیڈران، ارکانِ پارلیمان، فواد چوہدری، کنول شوزب اور 260 سے زائد کارکنوں کے خلاف تین مقدمات کی سماعت کی گئی۔
پی ٹی آئی نے ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا جبکہ پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ ان افراد نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت عوام کو تشدد پر اکسایا۔ عدالت میں ویڈیو شواہد، کال ریکارڈز اور گواہوں کے بیانات پیش کیے گئے۔

