جاز نے صارفین سے 6.58 ارب روپے زائد وصول کیے، آڈٹ رپورٹ
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی معروف موبائل کمپنی ’جاز‘ نے مالی سال 2023-24 کے دوران اپنے صارفین سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے منظور شدہ نرخوں سے زائد چارجز وصول کیے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے مختلف موبائل پیکجز کے نرخوں کی منظوری دی تھی تاہم جاز نے ان نرخوں سے تجاوز کرتے ہوئے صارفین سے مجموعی طور پر چھ ارب 58 کروڑ 30 لاکھ روپے زائد وصول کیے۔
آڈٹ میں منتخب ہفتہ وار اور ماہانہ پیکجز کا تقابلی تجزیہ کیا گیا جس سے یہ فرق واضح ہوا۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اتھارٹی نے جاز کو ہر سہ ماہی میں 15 فیصد تک نرخ بڑھانے کی عمومی اجازت دی جو صارفین کے تحفظ کے اصولوں کے خلاف قرار دی گئی۔
رپورٹ میں پی ٹی اے کی ریگولیٹری نگرانی کو کمزور قرار دیا گیا ہے۔
ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ جاز کی جانب سے نرخوں میں اضافے کی مکمل تفصیلات آڈٹ کو فراہم کرے تاہم رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔
آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس معاملے کی انکوائری کی جائے اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں صارفین کے حقوق کا بہتر تحفظ ممکن ہو۔

