عالمی خبریں

امریکی محکمہ خارجہ کا ملازم قومی سلامتی کے راز بیچتے پکڑا گیا، 48 ماہ قید کی سزا

ستمبر 5, 2025

امریکی محکمہ خارجہ کا ملازم قومی سلامتی کے راز بیچتے پکڑا گیا، 48 ماہ قید کی سزا

امریکی محکمہ خارجہ کا ملازم قومی سلامتی کے راز بیچتے پکڑا گیا، 48 ماہ قید کی سزا

سید فیصل علی – واشنگٹن

امریکی محکمہ خارجہ کا ایک اعلیٰ سیکیورٹی کلیئرنس رکھنے والا ملازم، مائیکل چارلس شینا، اپنے ہی ملک سے غداری کرتے ہوئے چینی حکومت کے مبینہ ایجنٹوں کو حساس دفاعی معلومات فراہم کرنے کے جرم میں 48 ماہ قید کی سزا پا گیا۔

یہ کیس نہ صرف ایک فرد کی بدعنوانی بلکہ امریکی سرکاری نظام میں موجود اندرونی کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ شینا نے محض چند ہزار ڈالرز کے لالچ میں اپنی عزت، ملک کا اعتماد اور حساس ترین قومی سلامتی کی معلومات نیلام کر ڈالیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے عہدیداروں نے شینا کے اقدام کو “شرمناک غداری” اور “قوم کے ساتھ دغا” قرار دیا۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برائے قومی سلامتی جان آیزنبرگ نے کہا:

“ملزم نے اپنا کیریئر برباد کیا، ملک سے غداری کی اور امریکا کی طرف سے دیے گئے ٹاپ سیکرٹ سیکیورٹی کلیئرنس کے اعتماد کو پامال کیا۔ آج کی سزا اُن سب کے لیے انتباہ ہے جو اپنے حلف اور ملک کے ساتھ دوغلاپن کرنے کا سوچتے ہیں۔”

استغاثہ کے مطابق، شینا نے اپریل 2022 سے آن لائن رابطوں کے ذریعے حساس معلومات بیچنا شروع کیں۔ وہ جانتا تھا کہ جن افراد سے وہ رابطے میں ہے، وہ عوامی جمہوریہ چین (PRC) کے لیے کام کر رہے ہیں، پھر بھی اُس نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔

اگست 2024 میں وہ پیرو کے ایک ہوٹل میں ایک شخص سے ملا، جہاں اسے 10 ہزار ڈالر نقدی اور ایک خفیہ موبائل فون دیا گیا تاکہ وہ مزید معلومات بھیج سکے۔ بعد ازاں اُس نے اس موبائل فون کے ذریعے “سیکرٹ” درجے کی قومی دفاعی دستاویزات کی تصاویر اتار کر اپنے رابطوں کو بھیجیں۔ فروری 2025 میں بھی اسے ایسا کرتے ہوئے خفیہ نگرانی میں ریکارڈ کیا گیا۔

ایف بی آئی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے موبائل فون ضبط کر لیا اور مزید حساس دستاویزات کے افشا ہونے سے پہلے ہی شینا کو گرفتار کر لیا۔

ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رومن روزہاوسکی نے کہا:

“چینی حکومت مسلسل امریکی سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ ہمارے راز چرا سکے۔ یہ کیس واضح پیغام دیتا ہے کہ ایف بی آئی اور اس کے شراکت دار ہر ممکن اقدام کریں گے تاکہ ایسے غداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔”

شینا کی سزا امریکی عدالت کے جج مائیکل ایس۔ نچمانوف نے سنائی۔ مقدمے کی تفتیش ایف بی آئی واشنگٹن فیلڈ آفس اور محکمہ خارجہ کی ڈپلومیٹک سیکیورٹی سروس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس شعبے نے کی، جبکہ مقدمہ محکمہ انصاف کے قومی سلامتی ڈویژن نے چلایا۔

یہ معاملہ اس بات کا کڑا ثبوت ہے کہ چند ہزار ڈالر کے عوض اپنے ملک سے غداری کرنے والوں کا انجام نہ صرف قید ہے بلکہ عزت، وقار اور اعتماد کا مستقل نقصان بھی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے