متفرق خبریں

ضلع اورکزئی میں آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کی بڑے جانی نقصان کی تصدیق

اکتوبر 8, 2025

ضلع اورکزئی میں آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کی بڑے جانی نقصان کی تصدیق

پاکستان کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ضلع اورکزئی میں لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 اہلکاروں کی جانیں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران چلی گئیں۔

اس سے قبل مقامی سکیورٹی ذرائع اور قریبی آبادی نے سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملے کی اطلاع دی تھی۔

افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی انٹلیجنس کی بنیاد پر ضلع اورکزئی میں کارروائی کے دوران ’انڈیا کی پراکسی فتنہ خوارج سے تعلق رکھنے والے 19 شدت پسند مارے گئے جبکہ کرنل اور میجر سمیت 11 اہلکار بھی جان سے گئے۔

بدھ کی دوپہر راولپنڈی میں آئی ایس پی آر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیان شب علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی انٹیلیجنس اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا۔

’آپریشن کے دوران انڈیا کے سپانسرڈ فتنہ الخوارج کے 19 شدت پسند سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تاہم ’شدید فائرنگ کے تبادلے میں 39 سالہ لیفٹیننٹ کرنل اور 33 سالہ میجر طیب راحت بہادری سے کمانڈ کرتے ہوئے اپنے 9 دیگر اہلکاروں کے ساتھ شہید ہو گئے۔‘
فوج کے دونوں افسران کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’دیگر جن 9 اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اُن میں نائب صوبیدار اعظم گُل، نائیک عادل حسین، نائیک گُل امیر، لانس نائیک شیر خان، لانس نائیک طالش فراز، لانس نائیک ارشاد حسین، سپاہی طفیل خان، سپاہی عاقب علی اور سپاہی محمد زاہد شامل ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ ’ہمارے بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں دہشت گردی کے عفریت کو جڑ اسے اکھاڑنے کے فوج کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘

افغانستان کی سرحد کے قریب اس علاقے میں یہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی فوج کی ایک بڑی کارروائی ہے جس میں اتنی اموات ہوئی ہیں۔

ماضی میں پاکستان کے ایسے حملوں کے بعد افغانستان سے تعلقات کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں اور دونوں اطراف سے معاملات کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے