طالبان رجیم دہشت گردوں کو لگام ڈالے: پاکستانی آرمی چیف
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’میں انڈین فوج کی قیادت کو خبردار کرتا ہوں کہ جوہری ماحول میں جنگ کی کوئی جگہ نہیں۔‘
سنیچر کو ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ’میں انڈیا کی فوجی قیادت کو مشورہ دیتا ہوں اور خبردار کرتا ہوں کہ ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور پاکستان کے ساتھ بنیادی مسائل باہمی احترام اور برابری کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق طے کرے۔‘
آرمی چیف نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کی بیان بازی سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے اور نہ ہی دباؤ میں آئیں گے، اور کسی بھی قسم کی معمولی اشتعال انگیزی کا بلاخوف فیصلہ کن جواب دیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جارحیت کے پورے خطے کے لیے تباہ کن تنائج ہوں گے جس کا ذمہ دار انڈیا ہو گا۔
معرکہ حق بنیان مرصوص میں افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور ازلی دشمن کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا۔
انہوں نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ اہم معاملات باہمی احترام اور بین الاقوامی روایات کے مطابق حل کریں۔ ہم آپ کے بیانات سے ڈرنے والے نہیں، ہم آپ کی طرف سے معمولی اشتعال کا جواب بھی بھرپور طریقے سے دیں گے جس کی ذمہ داری انڈیا پر ہو گی۔‘
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان نے اپنے عزم سے دشمن کو شکست دے کر قوم کا اعتماد مزید مضبوط کیا، پہلے کے مقابلے میں قوم زیادہ یکجا اور متحد ہوئی۔‘
دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے متعلق آرمی چیف نے کہا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ حالیہ مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط برادرانہ تعلقات کی تائید ہے اور یہ خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔‘
فیلڈ مارشل نے افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے متعلق کہا کہ انڈیا نے معرکہ بنیان مرصوص میں ناکامی کے بعد ریاستی پشت پناہی کے ساتھ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔
’ہمارے خلاف فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کو استعمال کر کے دنیا کے سامنے انڈیا نے اپنا منافقانہ اور سفاک چہرہ بے نقاب کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ انڈیا افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہم افغان عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ تشدد اور حقائق چھپانے پر مشترکہ استحکام اور ترقی کو ترجیح دیں۔‘
’طالبان رجیم ان دہشت گردوں کو لگام ڈالے جن کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں اور وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر سفاکانہ حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
’سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان کے بہادر عوام بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ مل کر یقینی طور پر اس فتنے کو شکست دیں گے۔‘
’ہمیں یقین ہے کہ روایتی جنگ میں ہماری کامیابی کی طرح ہمارے پڑوسی کی کسی بھی پراکسی کو ہم نیست و نابود کر دیں گے۔‘

