حادثے میں دو لڑکیوں کی موت، جسٹس آصف ریکی کے بیٹے ابوذر کو ضمانت کیسے ملی؟
اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر کم عمر ڈرائیور کی V8 گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کی ہلاکت کے مقدمے میں پانچ دن میں متاثرہ خاندانوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق حادثے کے وقت کم عمر ڈرائیور کا شناختی کارڈ تھا اور نہ ہی ڈرائیونگ لائسنس جبکہ اُس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ سنیپ چیٹ ویڈیو بنا رہا تھا جب گاڑی بے قابو ہوئی۔
ملزم ابوذر کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ کے بعد سنیچر کی سہ پہر اُس وقت اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کے کمپلیکس میں لایا گیا جب عدالتوں کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
ان کے مقدمے کے لیے خصوصی طور پر جج شائستہ کنڈی کی عدالت لگائی گئی۔
ملزم جسٹس محمد آصف ریکی کا بیٹا ہے جن کو بلوچستان ہائیکورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رواں سال جنوری میں ٹرانسفر کیا گیا تھا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ملزم ابوذر کو اسلام آباد پولیس اور عدالتی عملے نے خصوصی پروٹوکول دیا اور صحافیوں کو عدالت سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
جسٹس آصف ریکی کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کی ہلاکت کے کیس میں متاثرہ خاندانوں پر صلح کے لیے دباؤ ڈالنے میں مبینہ طور پر اسلام آباد پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے کردار ادا کیا۔
جج شائستہ کنڈی کو بتایا گیا کہ ملزم اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے اور اُنہوں نے جسٹس ریکی کے بیٹے ابوذر کو معاف کر دیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ خاندانوں کے افراد نے بیان ریکارڈ کرائے جس کے بعد ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کیا گیا۔
پولیس میں موجود ایک ذریعے کے مطابق ملزم کو ایک دن کے لیے بھی جیل جانے سے بچانے کے لیے اُس کا خاندان سرگرم رہا۔
اگر آج ضمانت نہ ہوتی تو ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کیا جاتا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرنے والی لڑکی کے بھائی کا بیان ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس کی والدہ کا آن لائن لیا گیا۔
مرنے والی دوسری لڑکی کے والد کا بیان عدالت میں ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تھانہ سیکریٹریٹ میں ملزم ابوذر کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس اہلکاروں نے وی آئی پی مہمان کے طور پر رکھا جہاں وہ دن بھر اپنے فون پر گیم کھیلتے رہتے۔ اُن سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کی۔
ملزم کے لیے کھانا کبھی گھر سے اور کبھی فاسٹ فوڈ منگوایا جاتا رہا جس میں پولیس اہلکاروں کے لیے بھی حصہ رکھا جاتا۔
اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کی رکھوالی پر تعینات ایک ذریعے کے مطابق حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج انتہائی ہولناک ہے اور اعلٰی حکام کی جانب سے اس کو لیک ہونے سے روکنے کے لیے خاص انتظامات کیے گئے۔

