انصاف کی توقع نہیں، عدالت میں جج کے سامنے جج کی پیشی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری اپنی ہی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں بطور وکیل پیش ہو گئے۔
پیر کو اُن کے دلائل کو عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا مسترد کر دی۔
عدالت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ فریق کو ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
جسٹس ڈوگر نے حکمنامے میں لکھا کہ ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن ریکارڈ لے کر خود پیش ہوں اور فریق کے سامنے ریکارڈ کو جواب کے لیے رکھا جائے، جمعرات کو کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
کیس کی سماعت کے آغاز پر جسٹس طارق جہانگیری عدالتی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے روسٹرم پر آئے دیگر تمام وکلا کو واپس سیٹوں پر بیٹھنے کا کہا۔ جہانگیری صاحب آئے ہوئے ہیں تو پلیز آپ سب بیٹھ جائیں۔
جسٹس جہانگیری نے بینچ کو بتایا کہ سر مجھے رات کو نوٹس ملا ہے، مجھے وقت چاہیے، جناب جب قائم مقام چیف جسٹس بنے تو میں نے آپ کے خلاف درخواست دی، ایک ضابطہ اخلاق ہے آپ بھی جج ہیں اور میں بھی جج ہوں۔
جسٹس ڈوگر نے کہا کہ ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
جسٹس جہانگیری نے بتایا کہ ایک ضابطہ اخلاق ہے ہم دونوں جج ہیں، میرا یہ اعتراض ہے، جب سے یہ عدالت بنی ہے ایک بار بھی رٹ درخواست پر جج کے خلاف سماعت نہیں ہوئی، مجھے سنے بغیر آپ نے اس درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے دیا، پاکستان یا دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی ہائیکورٹ کے جج نے ساتھی جج کو نوٹس نہیں دیا، ایک چپڑاسی کے کیس میں بھی آپ نوٹس دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اُن کو ایچ ای سی نے بھی نہیں سنا، ایک سال پرانا کیس ہے اور تین دن کا نوٹس دیا ہے، پلیز یہ پنڈورا باکس نہ کھولیں، سب کے خلاف ایسی درخواستیں آنا شروع ہو جائیں گی، کراچی یونیورسٹی کا میری ڈگری منسوخ کرنے کا حکم سندھ ہائیکورٹ نے معطل کر رکھا ہے، میں خدا کی قسم اُٹھا کر کہتا ہوں کہ میری ڈگری جعلی نہیں اور اس کو میڈیا میں جعلی ڈگری کیس کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے، یونیورسٹی نے بھی اسے جعلی نہیں قرار دیا، مجھے آپ سے انصاف کی توقع نہیں۔

