نیا ڈی جی آئی ایس آئی کون، ابصار عالم کو عمار سولنگی نامی شخص کا جواب کیوں؟
پاکستان میں خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے اگلے سربراہ یا ڈائریکٹر جنرل کی دوڑ میں شامل افسران کے حوالے سے چہ مگوئیاں جاری تھیں کہ صحافی ابصار عالم کے ایک ولاگ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
ابصار عالم کے مطابق موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک نے گزشتہ سال 30 ستمبر کو عہدہ سنبھالا تھا اور اس دوران ریٹائرمنٹ آنے کی وجہ سے اُن کو مدت ملازمت میں توسیع دی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگلے سال فروری اور مارچ میں پاکستانی کی فوج کے کچھ اعلیٰ افسران ریٹائر ہوں گے جس کے بعد چند بریگیڈیئرز کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا جائے گا۔
ابصار عالم کے مطابق ترقی پانے والوں میں موجودہ ڈی جی سی بریگیڈیئر فیصل نصیر بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کو اس وقت اہم سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے بریگیڈیئر فیصل نصیر کی سامنے آنے والی ایک تصویر کا بھی اپنے ولاگ میں ذکر کیا۔
ابصار عالم کے ولاگ کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے عمار سولنگی نامی ایکس ہینڈل نے لکھا کہ:
ابصار عالم صاحب! یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری بات چیت ہے۔ میں پروموٹ ہوں، نہ ہوں، ڈی جی آئی ایس آئی بنوں یا کور کمانڈر، آپ کا پرابلم؟ کبھی میں نے پوڈکاسٹ کیا ہے کہ آپ کی تنخواہ علیم خان (سما چینل کے مالک) نے کاٹ لی ہے؟

اس ٹویٹ پر صارفین تبصرے کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ اُن کو پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ ایکس ہینڈل کس کے زیرِ استعمال ہے۔
جیو نیوز سے وابستہ صحافی مریم نواز خان نے اس کو ری پوسٹ کر کے لکھا کہ کیا یہ عمار سولنگی کو صحافی نہیں سمجھا جا رہا تھا؟

سرکاری ٹی وی سے وابستہ اینکر شازیہ خان نے ایک دن قبل بریگیڈیئر فیصل نصیر کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:
ڈی جی سی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیصل نصیر جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ سیکیورٹی کی علامت کے طور پر کھڑے ہیں۔

ان کے مطابق ڈی جی سی آئی ایس آئی کی حیثیت سے وہ حکمت عملی اور خاموش عزم کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ایک بہادر، گمنام جنگجو جو پہچان اور تالیوں سے بالاتر قوم کی خدمت کر رہا ہے۔

