صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر اسلامی ملکوں کی اسرائیل کی مذمت، امارات خاموش کیوں؟
اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد اسلامی دنیا کے تمام اہم ممالک اس کی مذمت کر رہے ہیں تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے.
جمعے کو اسرائیل وہ والا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا جبکہ سعودی عرب نے سب سے پہلے اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کیا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’اسرائیل فوری طور پر صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔‘
انہوں نے ایک بیان میں صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبدالله کو مبارک باد دی، ان کی قیادت کی تعریف کی اور انہیں اسرائیل کے دورے کی دعوت دی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اعلان ’ابراہیم معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو صدر ٹرمپ کے انیشیٹو پر دستخط کیے گئے تھے۔‘
سنہ 2020 میں طے پانے والے یہ معاہدے صدر ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہوئے تھے، جن کے تحت اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ بعد میں دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوئے۔
اسرائیلی بیان کے مطابق نیتن یاہو، وزیرِ خارجہ جدعون سار اور صومالی لینڈ کے صدر نے باہمی اعتراف سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
صدر عبدالرحمان محمد عبدالله نے ایک بیان میں کہا کہ صومالی لینڈ ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو گا، جسے انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک قدم قرار دیا۔
عرب اور افریقی ملکوں کی بڑی تعداد نے اس کو مسترد کرتےہوئے مذمتی بیانات جاری کیے.
سنیچر کی شب 21 ملکوں نے اس حوالے سے بیان بھی جاری کیا تاہم متحدہ عرب امارات ان میں شامل نہیں.

دوسری جانب مصر نے کہا کہ وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے جمعے کو صومالیہ، ترکیہ اور جبوتی کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں اسرائیل کے اعلان کے بعد شاخ افریقہ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کو ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا گیا۔
مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی، صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور خبردار کیا کہ علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنا بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
جمعے کو صدر ٹرمپ نے اس ملک یا ریاست کے حوالے سے سوال پر کہ اسرائیل نے تسلیم کیا ہے امریکہ بھی کرے گا، کہا کہ ’کیا واقعی کوئی جانتا بھی ہے کہ صومالی لینڈ کیا ہے؟‘
اسرائیل کے تسلیم کرنے پر افریقی ممالک کے اتحاد کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ صومالیہ کا ایک علاقہ ہے مگر سمندری راستے اور بندرگاہ کے حوالے سے اس کی بحیرہ احمر میں بہت اہمیت ہے۔
اسرائیل اس کو استعمال کر کے افریقہ و عرب ملکوں کا گھیرا تنگ کر سکتا ہے۔ قریب ہی ترکیہ کا ایک فوجی اڈہ بھی قائم ہے۔
صومالی لینڈ سنہ 1991 سے، جب صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوا تھا، مؤثر خودمختاری اور نسبتاً امن و استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے، تاہم اس علیحدہ خطے کو اب تک کسی اور ملک کی جانب سے باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
گذشتہ برسوں کے دوران صومالیہ نے بین الاقوامی برادری کو کسی بھی ملک کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے خلاف متحرک کیا ہے۔
صومالی لینڈ کو امید ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے، جس سے اس کی سفارتی حیثیت مضبوط اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔

