پاکستان

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری سے زندگی متاثر، 11 زخمی

جنوری 22, 2026

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری سے زندگی متاثر، 11 زخمی

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور بالائی علاقوں میں شدید بارش، برفباری اور جھکڑ چلنے کے باعث معمولاتِ زندگی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بدھ کی رات شروع ہونے والا برفباری کا سلسلہ جمعرات کی شام تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔ بعض علاقوں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑچکی ہے۔

سردی کی شدت میں غیرمعمولی اضافے اور تیز ہواؤں نے شاہراہوں پر آمدورفت بحال رکھنے کی کوششوں کو شدید متاثر کیا۔

برف اور سڑکوں پر پھسلن کے باعث مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات پیش آئے۔ چمن میں ژڑہ بند کے مقام پر گاڑی اور وین میں تصادم کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک مرد ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔

قلعہ سیف اللہ اور پشین میں بھی قومی شاہراہ پر پھسلن کے باعث کئی حادثات پیش آئے تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مستونگ کے نواحی دیہی علاقے کنڈ میسوری میں نوشکی جانے والی تین مسافر گاڑیاں شدید برف باری کے باعث راستے میں پھنس گئیں۔

ان گاڑیوں میں سوار خواتین اور بچوں سمیت قریباً 40 افراد کئی گھنٹوں تک شدید سردی میں محصور رہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو ٹیمیں روانہ کیں جنہوں نے تمام مسافروں کو بحفاظت نکال کر گاڑیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے زیرِاثر بلوچستان میں بدھ کی شب بارش ہوئی جس نے قریباً پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ صوبے کے بالائی اور شمالی علاقوں میں شدید برفباری بھی ہوئی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ برف باری قلعہ سیف اللہ کے علاقوں مسلم باغ اور کان مہترزئی میں ریکارڈ کی گئی جہاں قریباً ایک فٹ تک برف پڑی۔

چمن میں 10 انچ، زیارت میں 9 انچ، پشین میں 6 انچ اور قلعہ عبداللہ میں 4 انچ برف ریکارڈ کی گئی، جبکہ کوئٹہ شہر میں دو انچ اور بروری کے علاقے میں ایک انچ برف پڑی۔ مستونگ اور قلات میں بھی دو دو انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے