پاکستان

ایمان و ہادی کی گرفتاری ریاستی جبر قرار، دُنیا بھر سے مذمت

جنوری 23, 2026

ایمان و ہادی کی گرفتاری ریاستی جبر قرار، دُنیا بھر سے مذمت

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی کی پُرتشدد طریقے سے گرفتاری پر ملک و بیرون ملک سے مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے دونوں کی گرفتاری کو بدترین ریاستی جبر قرار دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بیان میں کہا ہے کہ:
انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی کی آج کی گرفتاری پاکستانی حکام کی طرف سے عدالتی ایذارسانی اور دھمکیوں کی مسلسل مہم میں تازہ ترین اضافہ ہے۔ ایمان اور ہادی کو آج اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ عدالت کی سماعت کے لیے جا رہے تھے اور عینی شاہدین نے رپورٹ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے دونوں وکلاء کے خلاف بے جا طاقت کا استعمال کیا اور گرفتاری کے وقت کوئی وجوہات فراہم نہیں کی گئیں، جس سے ان کی حفاظت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا ہوئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل گرفتاری کے انداز، مناسب عمل کی پابندی نہ کرنے اور حکام کی جانب سے جعلی اور انتقامی مقدمات کی مسلسل پیروی سے پریشان ہے جس کا مقصد صرف ایمان اور ہادی کو ان کے انسانی حقوق کے کام اور اختلاف رائے پر خاموش کرنا ہے۔ ہراساں کرنے اور دھمکی دینے کی یہ مانوس پلے بک ختم ہونی چاہیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر رہا کریں اور ان تمام الزامات کو ختم کریں جو ان کے انسانی حقوق کے دفاع کے لیے کام کی وجہ سے لگائے گئے ہیں۔

وکیل جبران ناصر نے ایکس پر لکھا کہ: دونوں کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ بلوچ آوازوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریاستی مشینری میں کوئی رواداری نہیں۔ ان کی گرفتاری کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی جاری قید کے ساتھ ہی دیکھا جانا چاہیے۔ اسے سیاسی تشدد کے وسیع تناظر میں بھی سمجھنا چاہیے، خاص طور پر عمران خان کی قید اور سلوک، صحافیوں کے خلاف پیکا کا استعمال، علی وزیر کی نہ ختم ہونے والی قید، عام شہریوں پر فوجی ٹرائل اور احتجاج پر پرتشدد کریک ڈاؤن، چاہے یہ احتجاج پی ٹی آئی قیادت کے لیے ہو، بلوچوں کے حقوق کے لیے یا غزہ کی حمایت کے لیے۔ اس میں سے کسی کو بھی اعلیٰ عدلیہ کی ملی بھگت، خاموشی اور تعمیل سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس نے ذاتی راحت اور تحفظ کے لیے اپنے عوامی فرض سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایمان اور ہادی کی گرفتاری، جس کا مقصد اختلاف رائے کو خاموش کرنا تھا، طاقت کا نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا خوف ظاہر کرتا ہے۔ یہ خوف بالکل وہی ہے جو جرنیلوں کو خود کو استثنیٰ دینے پر مجبور کرتا ہے۔ انتخابات پر ڈاکہ ڈالنے اور حکومت کرنے کی تمام قانونی حیثیت کھو دینے کے بعد، حکومت کا عدم تحفظ اسے طاقت کے ذریعے اختلاف رائے کو کچلنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ایک خود اعتمادی والی ریاست کا طرز عمل نہیں، بلکہ اس کا طرز عمل ہے جو مظلوموں کو خاموش کر کے اپنے آپ کو مسلسل دھوکہ دیتی ہے۔

صحافی شاہ زیب جیلانی نے لکھا کہ:

‏”ایک ہارڈ سٹیٹ کی جانب سے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی کے ساتھ جس طرح کا حد سے زیادہ سخت رویہ رکھا جا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کہاں کھڑی ہے۔ اس سرکس کو چلانے والے کتنے کمزور اور غیرمحفوظ ہیں، ان کے سویلین سائڈ کِک کی خاموشی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ کتنے بے وُقعت ہیں۔“

سینیئر ‏ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایمان مزاری کو انصاف نہیں مل سکا، اس کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کیا جا سکا۔

‏ایک وکیل اور وہ بھی خاتون ہو اس کا کیس بھی سماعت کے لیے مقرر نہ ہو تو یہ بہت تکلیف دہ بات ہے،‏ اس سے نظام انصاف پر سوال کیا انگلیاں اٹھیں گی، اس کا اثر معاشرے کے ہر فرد تک پہنچے گا، یہ نظام بیساکھیوں پر کھڑا ہے اور ایک لڑکی کے ڈر سے نظام کی بیساکھیاں لرز رہی ہیں۔

بیانات کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہزاروں کی تعداد میں وکلا، صحافیوں، کارکنوں اور سیاست دانوں نے گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے