عالمی خبریں

آن لائن مالیاتی فراڈ میں میانمار سے لائے گئے 11 چینی شہریوں کو پھانسی

جنوری 29, 2026

آن لائن مالیاتی فراڈ میں میانمار سے لائے گئے 11 چینی شہریوں کو پھانسی

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین نے ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک 11 افراد کو جمعرات کو پھانسی دے دی، کیونکہ بیجنگ سرحد پار پھیلی ہوئی اس صنعت کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا، خصوصاً میانمار کے سرحدی علاقوں میں، ایسے فراڈ مراکز موجود ہیں جہاں دھوکے باز انٹرنیٹ صارفین کو جعلی رومانوی تعلقات اور کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے جھانسے میں پھنساتے ہیں۔

ابتدا میں زیادہ تر چینی زبان بولنے والوں کو نشانہ بنانے والے یہ مجرمانہ گروہ اب متعدد زبانوں میں اپنے آپریشنز پھیلا چکے ہیں تاکہ دنیا بھر کے متاثرین سے رقم لوٹی جا سکے۔

ان فراڈ سرگرمیوں میں ملوث افراد میں بعض پیشہ ور دھوکے باز ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات انسانی سمگلنگ کے شکار غیرملکی شہریوں کو زبردستی اس کام پر لگایا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں بیجنگ نے خطے کی حکومتوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا ہے تاکہ ان مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے، اور ہزاروں افراد کو چین واپس بھیجا گیا ہے جہاں انہیں چین کے غیرشفاف عدالتی نظام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق جمعرات کو پھانسی پانے والے 11 افراد کو ستمبر میں مشرقی چینی شہر وینژو کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، اور اسی عدالت نے سزاؤں پر عمل درآمد بھی کیا۔

شنہوا کے مطابق ان افراد کے جرائم میں ’دانستہ قتل، دانستہ جسمانی نقصان، غیرقانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کا قیام‘ شامل تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سزائے موت کی توثیق بیجنگ میں سپریم پیپلز کورٹ نے کی، جس نے قرار دیا کہ سنہ 2015 کے بعد کیے گئے جرائم کے شواہد ’قطعی اور کافی‘ ہیں۔

پھانسی پانے والوں میں بدنام زمانہ ’مِنگ فیملی کرمنل گروہ‘ کے ’اہم ارکان‘ بھی شامل تھے، جن کی سرگرمیوں کے نتیجے میں 14 چینی شہری ہلاک اور ’کئی دیگر‘ زخمی ہوئے۔

فراڈ کے ’کینسر‘ کے خلاف جنگ

ماہرین کے مطابق میانمار کے سرحدی علاقوں میں قائم فراڈ نیٹ ورکس نے فون اور انٹرنیٹ سکیموں کے ذریعے دنیا بھر سے اربوں ڈالر ہتھیا لیے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے