عالمی خبریں

جمہوریت کی موت اندھیرے میں، واشنگٹن پوسٹ سے 300 صحافیوں کی برطرفی پر ردعمل

فروری 5, 2026

جمہوریت کی موت اندھیرے میں، واشنگٹن پوسٹ سے 300 صحافیوں کی برطرفی پر ردعمل

امریکہ کے قدیم اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دُنیا بھر سے اپنے 300 صحافیوں کو برطرف کر دیا ہے جن میں متعدد نامور لکھاری اور نامہ نگار شامل ہیں۔

یہ خبر اس وقت دُنیا بھر میں شہ سُرخیوں میں ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایکس پوسٹ میں لکھا گیا کہ ”اگر جیف بیزوس میلانیا ٹرمپ کی ڈاکومینٹری فلم پر سات کروڑ 50 لاکھ ڈالر، اپنی شادی کے لیے یاٹ (کشتی) پر 50 کروڑ ڈالر، اور شادی پر پانچ کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ کر سکتے ہیں۔ اپنی بیوی کو پانچ ملین ڈالر کی انگوٹھی دینے کے متحمل ہوسکتے ہیں، تو براہ کرم مجھے یہ نہ بتائیں کہ انھیں بچت کے لیے/کاروباری اخراجات کی وجہ سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک تہائی عملے کو برطرف کرنے کی ضرورت ہے۔“

اُن کا کہنا تھا کہ وہاں جمہوریت مر جاتی ہے جہاں اقتدار چند مخصوص امیر افراد، خاندانوں یا طاقتور گروہوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز میں لکھنے والی میگن کے سٹیک کہتی ہیں کہ واشنگٹن پوسٹ سے کچھ بہترین صحافیوں کی بڑے پیمانے پر برطرفی کی خبر خوفناک ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ خبریں موجود رہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسے رپورٹرز کام کریں جو جانتے ہوں کہ وہ اہم چیزوں کی چھان بین کیسے کر سکتے ہیں، تو آپ کو پبلیکیشنز کو سبسکرائب کرنا ہوگا۔ آپ کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں.

صحافی و ایڈیٹر تُلیکا باس نے اس پر تبصرہ کیا کہ ”یہ اصل بات ہے۔ صحافی موادی تخلیق کار (کانٹینٹ کریئیٹر) نہیں ہیں۔ ہمارا کام محنت طلب اور وقت طلب ہے، لیکن یہ حقیقی تبدیلی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور ہاں، آپ کو اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے