پاکستان

اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والے کے دو بھائی گرفتار، فائرنگ میں دو اہلکار ہلاک

فروری 7, 2026

اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والے کے دو بھائی گرفتار، فائرنگ میں دو اہلکار ہلاک

پشاور میں سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے کے دو بھائی گرفتار کر لیے گئے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے پر آپریشن کے دوران فائرنگ میں دو اہلکار مارے گئے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق پشاور کے رہائشی مبینہ خودکش حملہ آور یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر اور بہنوئی عثمان ترناب فارم کے علاقے سے گرفتار کیے گئے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ یاسر اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ بھی رابطے میں تھا جبکہ وہ مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا۔

‏جون میں باجوڑ گیا اور وہاں ایک نئی سم ایکٹیویٹ کی۔
‏27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں رہا اور پھر حکیم آباد نوشہرہ آیا، پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آوار نے 2 فروری کو امام بارگاہ کی ریکی بھی کی تھی۔

دوسری جانب اسلام آباد خودکش حملے کے بعد نوشہرہ میں پولیس نے سرچ آپریشن کیا جہاں دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو اہلکار مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔

پولیس کے مطابق تھانہ کینٹ کی حدود ڈھیری کٹی خیل حکیم آباد میں چھاپے کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فائرنگ کے نتیجے میں اے ایس آئی اعجاز خان اور ایک سیکیورٹی اہلکار موقع پر ہی جان سے گئے۔

پولیس کے مطابق ایک کرنل سمیت اے ایس آئی خان شیر اور کانسٹیبل حضرت علی زخمی ہوئے جبکہ مقابلے کے دوران ایک دہشت گرد بھی ہلاک ہوا۔

پشاور میں پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے اُس کی والدہ اور دو بھائی حراست میں لیے گئے۔

26 سالہ مبینہ خودکش حملہ آور کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی جس کا تعلق شیرو جنگی چارسدہ روڈ محلہ عباس کالونی سے ہے۔

مبینہ خودکش حملہ آور کا عارضی پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے