بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی دو تہائی اکثریت، جماعت اسلامی کو شکست
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ملک میں منعقد ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی نیوز چینل جامونا ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بی این پی اور اتحادیوں نے کُل 300 نشستوں میں سے 209 جیت لی ہیں اور قومی اسمبلی کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
حریف جماعت اسلامی کے حصے میں 68 نشستیں آئی ہیں، اسی طرح نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات جمعرات کو منعقد ہوئے جو جین زی کی جانب سے چلائی گئی اس احتجاجی لہر کے بعد منعقد ہوئے جس کے نتیجے میں انڈیا کی اتحادی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا، جس کے بعد وہ انڈیا چلی گئی تھیں اور اب بھی وہیں ہیں جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بھی پایا جاتا ہے۔
مبصرین کا خیال اس الیکشن کے بعد ملک کی صورت حال میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے اسلامی ملک پر قریباً 15 برس تک شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی حکومت رہی جس سے عوام کو کافی شکایات بھی رہیں اور اس کے نتیجے میں اگست 2024 میں شدید احتجاجی لہر اٹھی تھی۔
جمعرات اور جمعے کی درمیان رات ہونے والی گنتی کے بعد جب بی این پی کی اکثریت سامنے آئی تو پارٹی کی جانب سے عوام کا شکریہ ادا کیا گیا اور اپیل کی گئی کہ جمعے کی نماز کے بعد ملک کی ترقی کے لیے خصوصی دعا مانگیں۔
بی این پی کی قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان مطابق ’وسیع اکثریت سے جیتنے کے باوجود کسی قسم کا کوئی جشن منایا جائے گا نہ ہی کوئی ریلی نکالی جائے گی۔‘

