سفارتی حل کی امیدیں کمزور، امریکہ اور ایران میں ممکنہ فوجی تصادم
تہران کے جوہری پروگرام پر جاری تعطل کے بعد امریکہ اور ایران تیزی سے ممکنہ فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ سفارتی حل کی امیدیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی ممالک اور اسرائیل، جو برسوں سے ایران کو اپنا بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں، اب سمجھتے ہیں کہ کسی تصفیے کے بجائے تصادم کا امکان کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں 2003 کی عراق جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتیوں میں سے ایک کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی حکومت بھی امریکہ کے ساتھ ممکنہ مشترکہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اگرچہ ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

