اداکار سہیل احمد کا نامکمل ویڈیو کلپ کس نے شیئر کیا، اور معذرت کس نے کی؟
پاکستان کے سوشل میڈیا پر فیک نیوز، مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے بیانات اور مشہور شخصیات کے نامکمل ویڈیو کلپس شیئر کر کے مخالفانہ مہم شروع کرنا اب معلوم بنتا جا رہا ہے-
منگل کو ایسے ہی ایک ویڈیو کلپ کو شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے اب صارفین سے معذرت کی جا رہی ہے-
معاملے کا پسِ منظر
معروف اداکار اور کامیڈین سہیل احمد کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اُن کے خلاف تبصرے کیے گئے- اس کلپ کو بڑی فالونگ والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ جیسے کہ سیاست ڈاٹ پی کے سمیت متعدد صارفین نے شیئر کیا-
سیاست ڈاٹ پی کے نے نامکمل ویڈیو کلپ کی بنیاد پر سوشل میڈیا پوسٹر بنایا جس میں سہیل احمد سے منسوب کر کے لکھا گیا کہ ’پاپولیرٹی (مقبولیت) حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ حسین بھی اتنے ہی پاپولر ہیں جتنا یزید پاپولر ہے۔‘
اس پوسٹر کو شیئر کر کے دُنیا نیوز کے تجزیہ کار بیرسٹر سعد رسول نے پوسٹ کیا کہ ’جو حسین علیہ السلام اور یزید لعین میں تفریق نہ کر سکے، اُس جاہل پر لعنت۔۔۔ بیشمار!‘
اس پر قانون دان ریما عمر نے لکھا کہ کیا آپ نے پوسٹ کرنے سے پہلے مکمل ویڈیو اور سہیل احمد صاحب کی وضاحت دیکھی؟
ریما عمر نے مزید کہا کہ ’سہیل احمد صاحب کے خلاف پی ٹی آئی سے متعلقہ کُچھ لوگ مذہب کو بنیاد بنا کر ایک خطرناک، قابل مذمت مہم چلا رہے ہیں جو جھوٹ پر مبنی ہے – آپ کو اس مہم میں شرکت کرتے ہوئے دیکھ کر بہت افسوس ہوا-‘
ہم نیوز سے وابستہ صحافی نادر بلوچ نے سہیل احمد کا نامکمل ویڈیو کلپ شیئر کر کے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’اس شخص کو اس کے فن کی وجہ سے عوامی محبت ملی مگر جاتی امرا کی ذاتی عقیدت میں اس نے تمام حدود پار کر دیں- افسوس کہ اپنے متنازع بیان کے دفاع میں امام حسین جیسے مقدس نام کو بھی استعمال کیا جو انتہائی نامناسب ہے-‘
صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے نادر بلوچ کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب کامیڈین مجبوری میں واعظ بن جائے تو اس طرح کے کھچڑی فلاسفر پیدا ہوتے ہیں-‘
ناروے میں مقیم صحافی عفت رضوی نے نادر بلوچ کی ٹویٹ کا سکرین شاٹ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے سہیل احمد کے اس کلپ پر ردعمل دیا کہ حسین اور یزید کی شہرت کا موازنہ بھی پیش کرنا انتہائی معیوب مثال ہے۔ لیکن کمنٹس میں کچھ پیشہ ور نفرت کے پرچارک سہیل صاحب کےخلاف گستاخی کارڈ لے آئے- میں اپنی ٹائم لائن کو ایسی مذہبی منافرت کے لیے استعمال نہیں ہونے دے سکتی، ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ہے-‘
اداکار سہیل احمد کی وضاحت اور پوسٹ کرنے والوں کی معذرتیں
منگل کی صبح اداکار سہیل احمد کا ایک وضاحتی ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا-
اس بیان میں انہوں نے کہا کہ ’کسی تقریب میں میرے گفتگو کے دوران کہے گئے میرے ایک جملے کو وائرل کیا جا رہا ہے، جس میں یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہوں کہ پاپولیریٹی کوئی اتنی بڑی بات نہیں، حسین بھی اُتنے ہی پاپولر ہیں یزید بھی اُتنے ہی پاپولر ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ اچھے لفظوں میں یاد کون ہو رہا ہے اور برے لفظوں میں یاد کون ہو رہا ہے- اُس تقریب میں بچوں کو سمجھانے کے لیے یہ بات کر رہا تھا کہ خدارا یزید کا راستہ استعمال نہ کریں پاپولر ہونے کے لیے، حسینی قافلے میں شامل ہوں، ایسے کام کریں کہ لوگ آپ کو اچھے لفظوں سے یاد کریں، بُرے لفظوں سے نہ یاد کریں- اُس گفتگو کا ایک چھوٹا سا جملہ نکال کر اُس کو وائرل کیا گیا، اُسے سیاست سے اور نعوذ بااللہ اس کو سیاست دانوں سے جوڑنے کی بات کر کے تو مجھے اپنی طرف سے گند کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے- میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ ضرور ایسی حرکتیں کریں مگر مذہب نہ استعمال کریں- خدا کے واسطے موت کو یاد رکھیں، مذہب نہ استعمال کریں- میری جان قربان امام حسین پر، اہل بیت پر، میرے بچے قربان اہل بیت پر، کیا کر رہے ہیں- کس حد تک جا رہے ہیں آپ لوگ اس بحث کے اندر- ڈریں رب سے-‘
صحافی نادر بلوچ نے بعد ازاں لکھا کہ ’سہیل عزیزی کی وضاحت کے بعد میں نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے اور اپنے کمنٹس بھی۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’لفظوں کے چناؤ میں بہتری کی گنجائش تھی، لیکن اس بنیاد پر ان کی وضاحت قبول نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا مکمل کلپ بھی سامنے آ چکا ہے، جس میں وہ آگے چل کر حاضرین کو حسینی راستہ اپنانے کی تاکید کر رہے ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں ایک نامکمل کلپ کا شکار ہوا، جس پر سہیل عزیزی اور تمام احباب سے معذرت کا خواستگار ہوں۔‘
مطیع اللہ جان کا معذرتی ٹویٹ
’میری ٹویٹ میں سھیل احمد صاحب سے متعلق میرے الفاظ نامناسب اور غلط فہمی پر مبنی تھے جس پر مجھے افسوس ہے اور سھیل صاحب سے معذرت۔ مجھے صرف ان کے مقبولیت کے حوالے سے کیے گئے موازنے پراعتراض تھا۔ حسین کی تاریخ میں مقبولیت کا کسی سے موازنہ بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بہرحال مجھے افسوس ہے اور ٹویٹ برقرار ہے تاکہ میرے غلطی کا بھی ریکارڈ پر رہے۔‘

