پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے تمام ریکارڈ توڑ دیے
پاکستان میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں مزید فی لیٹر 137 روپے یا 43% اضافہ کر دیا ہے-
ملکی تاریخ میں اب تک کی سب سے بلند سطح یعنی 458 روپے فی لیٹر ہونے کی وجہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس پر مزید ٹیکس لگانا ہے-
پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے فی لیٹر بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافے کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہے-
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی کو ریکارڈ 160.61 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا-
دنیا بھر میں حکومتوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کیا ہے تاکہ صارفین کو دباؤ سے بچایا جا سکے تاہم پاکستانی وزیراعظم نے اپنے قلم کی ایک جنبش سے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 106 روپے سے 161 روپے تک بڑھا دی — یعنی ٹیکس میں 55 روپے کا اضافہ کیا-
حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بلند سطح یعنی 520 روپے فی لیٹر تک بڑھا دی — فی لیٹر 185 روپے یا 55% اضافہ۔ تاہم وزیراعظم نے ہائی سپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی یا ٹیکس ختم کر دیا ہے اور تمام درآمدی ٹیکسوں کے علاوہ فی لیٹر 2.5 روپے کاربن لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کی حکومت نے قیمتیں اس لیے بڑھائیں کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو قائل کرنے میں ناکام رہی کہ اسے مزید سبسڈیز دینے کی اجازت دے۔

