پنجاب کے ایک ڈویژن میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پر گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) خرم شہزاد کی سرزنش کی ہے-
پیر کو آر پی او خرم شہزاد عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اُن سے کہا کہ پر گوجرنوالہ ڈویژن میں 186 گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹیں-
جسٹس باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ آپ نے آنکھیں بند کرلیں، ہماری آنکھیں بند نہیں ہوتیں-
گوجرنوالہ کے علاقائی پولیس افسر نے اپنے ڈویژن میں منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں نہ ٹوٹنے کی یقین دہانی کرائی-
جسٹس فاروق فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی- منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزم ابوبکر نے بعد از گرفتاری درخواست ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے-
دوران سماعت ججز نے پولیس افسر سے پوچھا کہ وہ بتائیں کیا ان ملزمان کو ایک ہی وقت گرفتار کیا گیا، ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں-
جسٹس فاروق حیدر نے آر پی او سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ان واقعات کو خود دیکھا ہے؟ آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد نے جواب دیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھا ہے-
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پوچھا کہ گوجرانولہ ڈویژن میں کتنے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے ہیں- کتنے کیسز گوجرنوالہ، گجرات، منڈی بہاوالدین اور اس ڈویژن میں ہوئے ہیں؟
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ گوجرنوالہ ڈویژن میں 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے ہیں- سرکاری وکیل نے بتایا کہ گوجرنوالہ ضلع میں 158، گجرات میں دو، منڈی بہاالدین میں چار ایسے واقعات سامنے آئے-
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ منشیات کے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے والا مسئلہ گوجرنوالہ ہی کا ہے-
جسٹس باجوہ نے سرکاری وکیل سے کہا کہ یہ رپورٹ تو رواں سال کی ہے- گزشتہ دو برسوں کی رپورٹ کدھر ہے؟ وکیل نے بتایا کہ سنہ 2024 میں کسی ملزم کی ٹانگ نہیں ٹوٹی، جبکہ گزشتہ برس 30 افراد کی ٹانگیں ٹوٹی تھیں-
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پولیس کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ نیا میکنزم ہے جو انہوں نے بنایا ہوا ہے؟ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ کسی کیس میں کسی کے گرنے اور ٹانگیں ٹوٹنے کی شکایت نہیں آئی-
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کہا کہ شکایت کیوں آنی ہے؟ سنہ 2024 میں کوئی ایک ملزم نہیں گرا، نہ ٹانگ ٹوٹی. سنہ 2026 کے تین مہینوں میں 186 لوگ گرے اور ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں- جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ کیا وہ یقین دہانی کرائیں گے کہ آئندہ کسی کی ملزم کی ٹانگیں نہیں ٹوٹیں گی؟
پولیس افسر نے کہا کہ وہ یقین دہانی کرانے کو تیار ہیں-
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے، وہ سپروائزری آفیسر ہیں- آپ کی رائے اور آپ کی انکوائری سے میری تسلی نہیں ہوتی- گوجرانولہ ڈویژن میں جتنے لوگوں کی ٹانگیں ٹوٹیں وہ معاملہ ٹھیک نہیں- اگر لوگوں کی ٹانگیں ٹوٹ رہی ہیں، آپ کو اس معاملہ کا جائزہ لینا چاہیے-
آر پی او گوجرنوالہ نے بتایا کہ جو بھی اس طرح کا معاملہ آتا ہے اس کی انکوائری وہ خود کرتے ہیں-
عدالتی بینچ سے گوجرانوالہ کے پولیس افسر سے کہا کہ اُن کو یہ معاملہ خود دیکھنا ہوگا، اگر کوئی ملوث ہوگا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا-
وکیل صفائی نے بتایا کہ اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو نہیں بنائی گئی، گواہان پولیس والے ہیں- بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا، پرائیویٹ ٹھوس شواہد نہیں، ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کی جائے- تین ملزمان کو اکھٹے گرفتار کیا گیا، پھر علیجدہ علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا، ملزم ابوبکر سابقہ ریکارڈ یافتہ نہیں، یہ مزدوری کرنے گیا ہوا تھا- اس کے خلاف بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا ، برآمدگی بھی بوگس ہے-
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے درخواست ضمانت کی مخالفت میں دلائل دیے-
جسٹس فاروق حیدر نے پوچھا کہ پولیس اہلکاروں اور سرکاری استغاثہ سے کہا کہ ملزم کا ریمانڈ کا پیپر کہاں ہے، اتنی ساری جماعت آ گئی ہے یہ تیاری کرکے آئی ہے-
عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواست ضمانت خارج کر دی-
جسٹس فاروق حیدر نے پولیس افسران سے کہا کہ ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے معاملے پر بھی عدالت آرڈر جاری کرے گی-

